உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: سیکورٹی کونسل میں یوکرین بحران پر ہندوستان نے پھر بنائی ووٹنگ سے دوری، اب جنرل اسمبلی میں ہوگی گفتگو ، پڑھئے اب تک کے اہم اپ ڈیٹس

    Russia-Ukraine War:  بیلاروس میں امن مذاکرات کیلئے تیار ہوا یوکرین، پوتن نے نیوکلیئر فورسیز کو الرٹ پر رکھا، پڑھئے اب تک کے اہم اپ ڈیٹس

    Russia-Ukraine War: بیلاروس میں امن مذاکرات کیلئے تیار ہوا یوکرین، پوتن نے نیوکلیئر فورسیز کو الرٹ پر رکھا، پڑھئے اب تک کے اہم اپ ڈیٹس

    Ukraine Russia War: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں اتوار کے روز کئی اہم موڑ سامنے آئے، جہاں ایک طرف یوکرین بیلاروس میں امن معاہدے پر بات چیت کیلئے تیا رہوگیا تو وہیں ہندوستان میں بھی وزیراعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : یوکرین میں جاری کشیدگی کے درمیان یو این ایس سی میں ایک میٹنگ ہوئی ، جس میں 15 میں سے یو این ایس سی کو گیارہ ووٹ حمایت میں ملے ، جس سے یوکرین پر روسی حملہ پر یو این جی اے کے ایمرجنسی سیشن بلانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ ہندوستان ، یو اے ای کے ساتھ چین نے بھی شرکت کی ۔ روس نے اس کے خلاف ووٹنگ کی ۔ یو این میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے یوکرین پر یو این ایس سی کی میٹنگ میں کہا کہ ہم تشدد کے فورا خاتمہ کی اپیل کرتے ہیں ۔ ہمارے وزیر اعظم نے روس اور یوکرین کی قیادت کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت میں اس کی زوردار وکالت کی ہے ۔





      وہیں دوسرے جانب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں اتوار کے روز کئی اہم موڑ سامنے آئے، جہاں ایک طرف یوکرین بیلاروس میں امن معاہدے پر بات چیت کیلئے تیا رہوگیا تو وہیں ہندوستان میں بھی وزیراعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ۔ یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی واپسی کے لئے پرزور کوششیں کرنے پر زور دیا۔ وہیں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی نیوکلیئر فورسیز کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی روس کے صدر کے اس حکم کے بعد اقوام متحدہ کی ایک اکائی بھی بدھ کو ایٹمی معاملہ پر میٹنگ کرے گی ۔

      جانئے اہم باتیں

      روسی افواج نے اتوار کو یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر کھارکیو میں گھس گئی اور سڑکوں پر لڑائی دیکھی گئی۔ تاہم اس کے بعد یوکرین نے دعویٰ کیا کہ اس نے روسی فوج کو باہر نکال کر ایک بار پھر شہر پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے ۔

      روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اتوار کے روز روسی نیوکلیئر فورسز کو ’ہائی الرٹ‘ پر رہنے کا حکم دیا ، جس سے یوکرین پر روس کے ذریعہ کئے گئے حملے پر مشرقی اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے ۔

      پوتن نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ نیٹو کے بڑے رکن ممالک کی طرف سے "جارحانہ بیان بازی" کے جواب میں کیا ہے ۔ اس حکم کا مطلب ہے کہ پوتن روس کے جوہری ہتھیاروں کو فائر کرنے کے لیے تیار رکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کے اس فیصلے کی وجہ سے دنیا میں ایٹمی جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں ۔

      یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف برلن میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے مظاہرہ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ وسطی برلن میں برینڈن برگ گیٹ کے آس پاس بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ہیں اور انہیں اضافی جگہ فراہم کی جا رہی تھی۔ پولیس نے کہا کہ اتوار کا مظاہرہ پرامن تھا اور اس میں بچوں سمیت خاندانوں نے شرکت کی اور لوگوں نے یوکرین کی حمایت میں پیلے اور نیلے جھنڈے لہرائے۔

      کئی ہوائی اڈوں، ایندھن کے اسٹیشنوں اور دیگر تنصیبات پر حملوں کے بعد روسی فوج جنوبی علاقے میں اسٹریٹجک بندرگاہوں پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، لیکن شہروں میں اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

      روس کے صدارتی دفتر کریملن کے مطابق فوجی پیش قدمی کے بعد روس نے یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے ایک وفد بیلاروس بھیجا ہے۔

      بیلجیئم کے ساتھ ساتھ کینیڈا بھی ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے روسی ایئر لائنز کے لئے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

      یوکرین پر روس کے حملے کے دوران جہاں ہزاروں لوگ یوکرین چھوڑ رہے ہیں، تو وہیں یوکرین کے کچھ مرد اور خواتین اپنے وطن کے دفاع کیلئے یورپ بھر سے وطن واپس آ رہے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: