உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine War: شمالی کوریاسےجنگی سازوسامان کی خریداری، کیاروس کی شمالی کوریاکررہاہےمدد؟

    روسیوں کو یوکرین کے اندر اپنی افواج کے لیے رسد اور سپلائی چین میں کئی مسائل درپیش ہیں۔

    روسیوں کو یوکرین کے اندر اپنی افواج کے لیے رسد اور سپلائی چین میں کئی مسائل درپیش ہیں۔

    Ukraine War: تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ اور اتحادیوں کی جانب سے طویل فاصلے تک مار گرانے والے میزائلوں کے حصول نے یوکرین کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ فرنٹ لائنز پر رہ کر روسی جارحیت کا مقابلہ کرسکے۔ اسی لیے یوکرئن نے درجنوں روسی گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaUkraine Ukraine
    • Share this:
      Ukraine War: ایک امریکی فوجی ترجمان نے منگل کے روز بتایا ہے کہ روس یوکرین میں مہینوں کی شدید لڑائی کے باعث ختم ہونے والے ذخائر کو بھرنے کے لیے شمالی کوریا سے بڑی مقدار میں گولہ بارود خرید رہا ہے۔ پینٹاگون (Pentagon) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر (Brigadier General Pat Ryder) نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ روس نے گولہ بارود کی درخواست کرنے کے لیے شمالی کوریا سے رابطہ کیا ہے۔

      ایک امریکی اہلکار کی جانب سے ایک الگ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خریداری میں راکٹ اور توپ خانے کے گولے شامل ہوں گے جو یوکرین میں میدان جنگ میں استعمال کیے جائیں گے۔ روس کی جانب سے شمالی کوریا سے جنگی ہتھاروں کی یہ خریداری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روسی فوج کو یوکرین میں رسد کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ بیرونی پابندیاں اور وسائل کا بے ہنگم استعمال ہے۔

      روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد بظاہر توقع تھی کہ وہ چند ہفتوں کے اندر ملک پر قبضہ کر لے گا۔ لیکن یوکرین نے امریکہ، نیٹو (NATO) اور یورپی اتحادیوں کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی مدد سے پیش قدمی روک دی ہے۔ جنگ میں دونوں فریقوں نے بھاری مقدار میں توپ خانے کا گولہ بارود استعمال کیا ہے۔ رواں صدی کے اس بھیانک جنگ میں بڑی تعداد میں ہتھیار ضائع کیے ہیں۔

      تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ اور اتحادیوں کی جانب سے طویل فاصلے تک مار گرانے والے میزائلوں کے حصول نے یوکرین کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ فرنٹ لائنز پر رہ کر روسی جارحیت کا مقابلہ کرسکے۔ اسی لیے یوکرئن نے درجنوں روسی گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ جب کہ مغربی پابندیوں نے ماسکو کے لیے کمپیوٹر چپس سمیت دیگر متبادل بنانے کے لیے اہم آلات کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Congress لیڈران پر حملہ اور فاروق عبداللہ کی تعریف... آخر چاہتے کیا ہیں غلام نبی آزاد؟

      یہ بھی پڑھیں۔
       Ghulam Nabi Azad نے آخر کیوں 50 سال بعد کانگریس اور راہل گاندھی سے حاصل کی آزادی



      بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نے کہا کہ شمالی کوریا سے خریداری ان چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہے جو روسیوں کو یوکرین کے اندر اپنی افواج کے لیے رسد اور سپلائی چین میں درپیش ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: