உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: یوکرائنی انجینئر نے کی 70 کروڑ روپے کی یاٹ کو ڈبونے کی کوشش، کہا کوئی افسوس نہیں

    یوکرائنی انجینئر نے روسی باس کی 70 کروڑ روپے کی یاٹ کو ڈبونے کی کوشش کی

    یوکرائنی انجینئر نے روسی باس کی 70 کروڑ روپے کی یاٹ کو ڈبونے کی کوشش کی

    اوسٹاپچک نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا، جب انھوں نے یوکرین میں ایک اپارٹمنٹ بلاک کو پہنچنے والے نقصان کی ویڈیو دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اس طرح کے میزائل حملے کی وجہ سے ہوا ہے جو میجیو نے بنایا تھا۔

    • Share this:
      یوکرین کے ایک مکینیکل انجینئر نے اپنے روسی آجر کی لگژری یاٹ (luxury yacht) کو اس وقت غرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب اس نے روسی میزائلوں کو یوکرین میں اپارٹمنٹ بلاکس میں ہلتے ہوئے دیکھا۔ ڈیلی ٹیلی گراف کی خبر کے مطابق 7 ملین پاؤنڈ کی لگژری یاٹ جسے لیڈی ایناستاسیا (Lady Anastasia) کہا جاتا ہے۔ یہ میلورکا (Mallorca) نامی سمندر میں اس وقت ڈوب گیا جب یوکرائنی شخص تاراس اوسٹاپچک (Taras Ostapchuk) نے اس کو ڈوبانے کی کوشش کی۔

      لگژری یاٹ کے مالک الیگزینڈر میجیو (Alexander Mijeev) ایک سابق روسی ہیلی کاپٹر کارپوریشن کے سربراہ ہیں جنہوں نے ایک سرکاری ہتھیار فراہم کرنے والے ادارے کو سنبھالا تھا۔ 55 سالہ اوسٹاپچک نے اپنی گرفتاری کے بعد ہسپانوی حکام کو بتایا کہ میجیف کے تیار کردہ اس قسم کے ہتھیار یوکرینیوں کو مارنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اوسٹاپچک نے ایک دہائی تک یاٹ پر کام کیا تھا، جس کی وجہ سے یہ جزوی طور پر ڈوب گیا۔

      اوسٹاپچک نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا، جب انھوں نے یوکرین میں ایک اپارٹمنٹ بلاک کو پہنچنے والے نقصان کی ویڈیو دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اس طرح کے میزائل حملے کی وجہ سے ہوا ہے جو میجیو نے بنایا تھا۔ اس کے بعد اوسٹاپچک نے انجن روم میں ایک پلگ کھولا اور عملے کے رہنے کی جگہ میں دوسرا پلگ کھولا۔ انھوں نے عملے کے دیگر ارکان کو بھی جہاز چھوڑنے کا حکم دیا، انہیں یاد دلاتے ہوئے کہ وہ بھی یوکرائنی تھے۔

      تاہم انہوں نے حکم ماننے سے انکار کر دیا اور یاٹ کو سیلاب سے بچانے کے لیے کام کیا۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق اس نے یہ بھی کہا کہ یہ حملے کے بدلے کی کارروائی تھی، عدالتی بیان میں مزید کہا کہ اسے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ 55 سالہ انجینئر نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کو مزید بتایا کہ اگرچہ وہ اپنی پہلی جنگ ہار چکے ہیں، جو اپنے آجر کی سپر یاٹ کو ڈبونے کی تھی، لیکن وہ اگلی جنگ جیتیں گے، جو کہ روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرین واپس جانا ہے۔

      اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق زستاونی نے کہا کہ وہ مولوٹوف کاک ٹیل اس لیے بنا رہے ہیں کہ کسی کو کرنا پڑتا ہے، اس حقیقت کے علاوہ کہ ان کے پاس ایسا کرنے کی مہارت ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: