உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقوام متحدہ کی طالبان سے بڑی اپیل، مظاہرین اور صحافیوں کو نشانہ بنانا بند کرے

    اقوام متحدہ کی طالبان سے بڑی اپیل، مظاہرین اور صحافیوں کو نشانہ بنانا بند کرے

    اقوام متحدہ کی طالبان سے بڑی اپیل، مظاہرین اور صحافیوں کو نشانہ بنانا بند کرے

    اقوام متحدہ (یو این) نے جمعہ کو افغانستان میں پرامن احتجاج کرنے والے مظاہرین کو طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تمام خاندانوں کو مناسب مقدار میں خوراک نہیں مل رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:

      جنیوا: اقوام متحدہ (یو این) نے جمعہ کو افغانستان میں پرامن احتجاج کرنے والے مظاہرین کو طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے اسے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تمام خاندانوں کو مناسب مقدار میں خوراک نہیں مل رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینا شامداسنی نے کہا ’’ہم طالبان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پرامن طریقے سے احتجاج کرنے والوں اور احتجاج کو کوریج کرنے والے صحافیوں پر طاقت کا استعمال اور من مانے طریقے سے انہیں حراست میں لینا فوری طور پر بند کرے‘‘۔
      ترجمان نے بتایا کہ اگست میں طالبان مسلح جنگجو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولہ بارود اور کوڑوں کا استعمال کر رہے تھے جس سے کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ طالبان نے 1996 سے 2001 کے مقابلے میں اب زیادہ اعتدال پسند حکومت کا وعدہ کیا تھا، لیکن انہوں نے واضح اشارے دیے ہیں کہ وہ احتجاج کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس ہفتے کے شروع میں مسلح طالبان نے ہرات سمیت افغانستان کے شہروں میں سینکڑوں مظاہرین کو منتشر کیا۔ اس کارروائی میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
      شامداسنی نے کہا کہ انسانی حقوق کے دفتر کو بھی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ طالبان بندوق برداروں نے گزشتہ ماہ قومی پرچم کشائی کی تقریب کے دوران بھیڑ کو منتشر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک شخص اور ایک لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
      انہوں نے کہا کہ بدھ کو کم از کم پانچ صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور دو کو کئی گھنٹوں تک بے رحمی سے مارا پیٹا گیا۔ محترمہ شامداسنی نے کہا ’’ایک صحافی نے بتایا کہ اس کے سر پر لات ماری گئی اور اس سے کہا گیا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کا سر قلم نہیں کیا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ڈرایا، دھمکایا جارہا ہے جو صرف اپنا کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 93 فیصد گھرانوں کو وافر مقدار میں خوراک نہیں مل رہی ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: