உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوکرین-روس تنازع:UNسربراہ انٹونیو گوٹریس نے ظاہر کی تشویش، کہا-جنگ ہوئی تو نتائج ہوں گے تباہ کن

    یوکرین۔روس جنگ کو لے کر یو این جنرل سکریٹری انٹونیو گوٹیرس نے تباہ کن نتائج کو لے کر کیا خبردار۔

    یوکرین۔روس جنگ کو لے کر یو این جنرل سکریٹری انٹونیو گوٹیرس نے تباہ کن نتائج کو لے کر کیا خبردار۔

    روس اور یوکرین کے درمیان مفاہمت کی خبروں کے درمیان یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جمعرات کو یوکرین نے روسی حمایت یافتہ افواج پر مشرقی یوکرین کے لوہانسک علاقے کے ایک گاؤں پر گولہ باری کا الزام لگایا۔ جس میں ایک کنڈرگارٹن کو نشانہ بنایا گیا۔

    • Share this:
      نیویارک: اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع کو لے کر خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ بہت تباہ کن ہو گی۔ یہ بات اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے جمعے کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے دوران کہی۔ روس نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔

      دراصل اس وقت روسی فوجی یوکرین کی سرحد پر مسلسل جمع ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی فوج نے جمعے کے روز کہا کہ روس کی تمام اسٹریٹجک فورسز ہفتے کے روز فوجی مشقیں کریں گی اور ان کی نگرانی خود روسی صدر ولادیمیر پوٹن کریں گے۔ دوسری جانب امریکا، نیٹو ممالک اور مغربی ممالک نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشرقی یوکرین میں حالات کشیدہ ہیں اور کشیدہ حالات والے علاقوں میں فائرنگ کی گئی ہے۔

      امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو روس اور یوکرین کے بحران کے حوالے سے روسی حملے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسے روکنے کے لیے اعلیٰ سطح پر کوششیں کی جانی چاہئیں۔

      روس اور یوکرین کے درمیان مفاہمت کی خبروں کے درمیان یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جمعرات کو یوکرین نے روسی حمایت یافتہ افواج پر مشرقی یوکرین کے لوہانسک علاقے کے ایک گاؤں پر گولہ باری کا الزام لگایا۔ جس میں ایک کنڈرگارٹن کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم یوکرین نے کہا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

      غورطلب بات یہ ہے کہ روس چاہتا ہے کہ مغرب یوکرین اور دیگر سابق سوویت ممالک کو ناٹو (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) سے باہر رکھے۔ اس کے علاوہ وہ سرحد پر ہتھیاروں کی تعیناتی روکے اور مشرقی یورپ سے فوج کو واپس بلا لیا جائے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: