صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کا ہاتھ ، بین الاقومی جانچ کی جائے : اقوام متحدہ تفتیشی اہلکار

اقوام متحدہ نے سعودی عرب کو صحافی جمال خاشقجی کی قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ایک تفتیشی اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے قابل یقین ثبوت ملے ہیں جو سعودی عرب کے ولی عہد کو قتل سے وابستہ کرتے ہیں ۔

Jun 19, 2019 05:29 PM IST | Updated on: Jun 19, 2019 05:30 PM IST
صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کا ہاتھ ، بین الاقومی جانچ کی جائے : اقوام متحدہ تفتیشی اہلکار

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان: فائل فوٹو۔

اقوام متحدہ نے سعودی عرب کو صحافی جمال خاشقجی کی قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ایک تفتیشی اہلکار کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے قابل یقین ثبوت ملے ہیں جو سعودی عرب کے ولی عہد کو قتل سے وابستہ کرتے ہیں ۔ تفتیشی اہلکار کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ سربراہ کو خاشقجی کے قتل کی بین الاقوامی جانچ شروع کرنی چاہئے ۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں صحافی جمال خاشقجی کا قتل کردیا گیا تھا ۔ ترکی نے الزام عائد کیا تھا کہ اس قتل کے پیچھے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے ۔ ترکی نے اس سلسلہ میں کچھ ثبوت بھی پیش کئے تھے ۔

Loading...

صحافی جمال خاشقجی کے قتل کو لے کر ولی عہد محمد بن سلمان کو شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔ پوری دنیا میں اس قتل کی مذمت کی گئی تھی ۔ حالانکہ محمد بن سلمان نے خاشقجی کے قتل میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا ۔ سعودی عرب میں اس قتل کو لے کر 11 افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے ، جس میں پانچ کو موت کی سزا بھی دی جاسکتی ہے ۔

بتادیں کہ جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کیلئے لکھتے تھے ۔ خاشقجی اپنی تحریروں میں سعودی ولی عہد کی شدید نکتہ چینی بھی کرتے تھے ، اس لئے ان کا قتل ہوتے ہی اس کے پیچھے سعودی علی عہد کے ہاتھ ہونے کا شک ظاہر کیا جانے لگا تھا ۔

Loading...