ہوم » نیوز » عالمی منظر

فیکٹ فائنڈنگ مشن :میانمار میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اب بھی جاری

اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ میانمار میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اب بھی جاری ہے جبکہ حکومت وہاں جمہوریت قائم کرنے میں کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Oct 25, 2018 10:28 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
فیکٹ فائنڈنگ مشن :میانمار میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اب بھی جاری
روہنگیا مسلمان کی فائل تصویر

روہنگیائی دنیا کی وہ اقلیت ہےجن کو اقوام متحدہ کی جانب سے میانمار کے شہری قرار دیئے جانے کے باوجود ان کے ساتھ آج بھی انسانیت سوز زیادتیاں کی جارہی ہیں۔ گزشتہ سال میانمار کے فوجیوں کے ہاتھوں رخائن میں قتل عام اور پھر وہاں سے دسیوں لاکھ روہنگیا مسلمانوں کی انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں بنگلہ دیش کو نقل مکانی ثابت کرتا ہے عالمی برادری کے احتجاج کے باجود وہاں کی سربراہ آنگ سان سوچی اور فوجی جنرلوں پر کوئی اثر نہیں پڑرہا ہے۔

اب میانمار کے رخائن میں روہنگیائی اقلیتوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ میانمار میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اب بھی جاری ہے جبکہ حکومت وہاں جمہوریت قائم کرنے میں کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے میانمار کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے سربراہ مارزوکی دارسمان کا کہنا تھا کہ اب بھی ہزاروں روہنگیا افراد بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کر رہے ہیں اور گزشتہ سال کے بدھ مت کمیونٹی کی سربراہی میں روہنگیا افراد کی قتل و غارت کے واقعہ کے بعد باقی بچے رہنے والے تقریباً 2.5 لاکھ سے 4 لاکھ روہنگیا افراد اب بھی سنگین پابندیوں کا سامنا ر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’وہاں یہ نسل کشی اب بھی جاری ہے‘‘۔ اقوام متحدہ کے میانمار میں خصوصی تحقیق کار برائے انسانی حقوق، یانگی لی کا کہنا تھا کہ ’’مجھے اور دیگر بین الاقوامی کمیونٹی کو امید تھی کہ آنگ سان سوچی کے آنے کے بعد صورتحال کچھ بہتر ہوگی تاہم یہ ماضی سے کچھ مختلف نہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ سو چی جو میانمار کی عوامی حکومت کی قیادت کر رہی ہیں ان الزامات کو مسلسل مسترد کر رہی ہیں کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا افراد کا قتل، ریپ اور بستیاں جلائی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ سال اگست کے مہینے سے اب تک 7 لاکھ افراد بنگلہ دیش منتقل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار کی حکومت پورے ملک میں جمہوریت، جہاں تمام شہریوں کو حقوق اور آزادی حاصل ہو، نافذ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی۔



 
First published: Oct 25, 2018 10:18 AM IST