உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gaza ceasefire: غزہ میں ایک ہفتےکےدوران اسرائیلی حملوں میں 48 فلسطینی ہلاک، اقوام متحدہ کی رپورٹ

    جن میں 17 بچے اور چار خواتین شامل ہیں۔

    جن میں 17 بچے اور چار خواتین شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے نوٹ کیا کہ غزہ میں تازہ ترین کشیدگی کے لیے جنگ بندی برقرار ہے، اس کے باوجود مغربی کنارے میں کشیدگی بہت زیادہ ہے، جہاں 9 اگست کو گولہ بارود سے چار فلسطینی ہلاک اور 90 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

    • Share this:
      اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ (Michelle Bachelet) نے غزہ میں تازہ ترین کشیدگی میں بچوں سمیت فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں ہلاک اور زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیچلیٹ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک میڈیا بیان میں کہا کہ تنازعہ کے دوران کسی بھی بچے کو تکلیف پہنچانا انتہائی پریشان کن ہے اور اس سال بہت سے بچوں کا قتل اور معذور ہونا ناقابل قبول ہے۔

      اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعرات کے روز کہا کہ اس نے 5 سے 7 اگست تک گزشتہ ہفتے کے تشدد میں 48 فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان میں کم از کم 22 عام شہری تھے، جن میں 17 بچے اور چار خواتین شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقے میں 19 فلسطینی بچے مارے گئے جس سے اس سال کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔

      اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے نوٹ کیا کہ غزہ میں تازہ ترین کشیدگی کے لیے جنگ بندی برقرار ہے، اس کے باوجود مغربی کنارے میں کشیدگی بہت زیادہ ہے، جہاں 9 اگست کو گولہ بارود سے چار فلسطینی ہلاک اور 90 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:




      انھوں نے کہا کہ فلسطین کی صورت حال انتہائی نازک ہے اور نابلس جیسے واقعات غزہ میں مزید دشمنیوں کو بھڑکانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے کہا کہ مزید خونریزی کو روکنے کے لیے انتہائی تحمل ضروری ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آتشیں اسلحے کا بین الاقوامی معیارات کے مطابق سختی سے استعمال کیا جائے۔ ورنہ اس کا بے درغ استعمال انسانیت کے لیے نقصاندہ ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: