உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sri Lanka Crisis:اقوام متحدہ نے کہا-سری لنکا میں60لاکھ سے زیادہ لوگ فوڈ سیکورٹی کے دائرے میں

    سری لنکا کے معاشی بحران کی وجہ سے لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے سے بھی محروم!(تصویر: اے ایف پی)

    سری لنکا کے معاشی بحران کی وجہ سے لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے سے بھی محروم!(تصویر: اے ایف پی)

    Sri Lanka Crisis: سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اقتصادی بحران میں گھرے اپنے ملک کو تیل درآمد کرنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ راجا پکسے نے اس بحث کو بہت مثبت قرار دیا۔

    • Share this:
      Sri Lanka Crisis:اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے معاشی بحران سے تباہ حال سری لنکا میں غذائی تحفظ کی صورتحال پر ایک نیا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق ملک کے ہر 10 میں سے تین گھریا خاندان اپنے لیے کھانے کا بندوبست کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ اس طرح 60 لاکھ سے زیادہ سری لنکن کو یہ بھی یقین نہیں ہے کہ انہیں اپنا اگلا کھانا ملے گا یا نہیں۔

      اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 61 فیصد گھرانوں کو خوراک کی قیمتوں میں مہنگائی، ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں اور اشیائے ضروریہ کی بڑے پیمانے پر قلت کے پیش نظر لاگت میں کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے یا تو خوراک کی مقدار کو کم کرنا شروع کر دیا ہے یا پھر وہ کم غذائیت والی خوراک کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

      اقوام متحدہ کی فوڈ ریلیف ایجنسی کا اندازہ ہے کہ یونین کے مزید گہرے ہونے کے ساتھ ایسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ لوگ ان حکمت عملیوں کو اپنا سکتے ہیں۔ ایک خاتون نے بتایا کہ کیونکہ ہمارے پاس کھانا نہیں ہے اس لئے ان دنوں ہم صرف چاول اور گریوی کھا رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      VIVO کے دفتر میں ED کے چھاپے سے بھڑکا چین، کہا۔ کمپنیوں کا بھروسہ ٹوٹے گا

      یہ بھی پڑھیں:

      Kuwaitمیں یرغمال بنایا گیا جوڑا گھر لوٹا،مقامی پولیس اور ہندوستانی سفارتخانے کااداکیاشکریہ

      راجاپکسے نے پوتن سے مانگی تیل کی مدد
      سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اقتصادی بحران میں گھرے اپنے ملک کو تیل درآمد کرنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ راجا پکسے نے اس بحث کو بہت مثبت قرار دیا۔ انہیں روس سے قرض پر سستا تیل ملنے کی امید ہے۔ ادھر سری لنکا میں لوگ بڑی تعداد میں دارالحکومت کولمبو کی سڑکوں پر نکل کر احتجاج درج کروا رہے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: