உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War:اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی ایمرجنسی میٹنگ میں یو این جنرل سکریٹری نے کہا-بس بہت ہوگیا،رُک جانی چاہیےجنگ

    اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گوٹیرس

    اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گوٹیرس

    Russia-Ukraine War: روس کو چھیڑنے کے لیے یوکرین کے نمائندے نے کہا کہ جب روس اقوام متحدہ کا رکن بنا۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد روس کی رکنیت کے لیے کس نے کب ووٹ دیا، کوئی ہاتھ اٹھاکر بتائے؟

    • Share this:
      برسلز: یوکرین(Ukraine) پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس(United Nations General Assembly) کا آغاز ایک منٹ کی خاموشی سے ہوا۔ یوکرین روس بحران پر، UNGA نے اپنے 11ویں ہنگامی خصوصی اجلاس میں کہا کہ ہم تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ صبر کرو اور گفتگو شروع کرو۔ یہ بھی کہا کہ سفارت کاری اور بات چیت کو برقرار رکھا جائے۔ اس دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس(António Guterres) نے کہا کہ انسانی امداد اہم ہے، یہ کوئی حل نہیں ہے۔ اس کا واحد حل امن ہے۔ میں نے یوکرین کے صدر کو یقین دلایا ہے کہ اقوام متحدہ ان کی مدد جاری رکھے گا، اسے ترک نہیں کرے گا۔ یوکرین میں جنگ ہر قیمت پر بند ہونی چاہیے۔

      گوٹیرس نے مزید کہا کہ بڑھتے ہوئے تشدد کے نتیجے میں شہری مر رہے ہیں۔ بہت ہو گیا، فوجیوں کو واپس بیرکوں میں جانے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ روسی نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھنا ایک ’پریشان کن پیشرفت‘ ہے۔ جوہری تصادم کا محض خیال ناقابل تصور ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ایک سنگین علاقائی بحران کا سامنا ہے جس کے ممکنہ طور پر ہم سب پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔


      اس حملے کو روکیں: یوکرین نمائندہ
      اسی دوران یوکرین کے نمائندے نے یو این جی اے کے ہنگامی اجلاس میں بتایا کہ اب تک یوکرین کے 16 بچوں سمیت 352 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، گولہ باری جاری ہے۔ یوکرین کے خلاف یہ حملہ بند کرو۔ یوکرین کے نمائندے نے روسی فوجی کے موبائل کا اسکرین شاٹ دکھایا اور کہا کہ مارا جانے والا روسی فوجی اپنی ماں سے بات کر رہا تھا۔ اس کی ماں پوچھ رہی ہے تم کہاں ہو، تربیت میں ہو؟ فوجی بتاتا ہے کہ وہ یوکرین پر بمباری کر رہا ہے۔ یہ پیوٹن کا پاگل پن ہے۔ اگر وہ خودکشی کرنا چاہتا ہے تو اسے ایٹمی بم کی ضرورت نہیں۔ وہ (پیوٹن) وہی کر سکتے ہیں جو 1945 میں برلن بنکر میں ہوا تھا۔

      روس کو چھیڑنے کے لیے یوکرین کے نمائندے نے کہا کہ جب روس اقوام متحدہ کا رکن بنا۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد روس کی رکنیت کے لیے کس نے کب ووٹ دیا، کوئی ہاتھ اٹھاکر بتائے؟
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: