உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بڑا قدم، جمعہ کو نارڈ اسٹریم لیکس پر ہوگا اجلاس

    ’’ہمیں عراق اور لیبیا میں امریکی ساحلوں سے بہت دور جارحیت کی جنگیں یاد آتی ہیں‘‘۔

    ’’ہمیں عراق اور لیبیا میں امریکی ساحلوں سے بہت دور جارحیت کی جنگیں یاد آتی ہیں‘‘۔

    سویڈن کی وزیر خارجہ این لِنڈے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جیسا کہ سلامتی کونسل کے موجودہ صدر فرانس نے آج ہمیں مطلع کیا ہے کہ روس نے نورڈ اسٹریم لیکس کے بارے میں ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے اور یہ میٹنگ جمعہ کو ہوسکتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, Indiachinachinachinachina
    • Share this:
      سویڈن اور فرانسیسی کونسل کی صدارت نے بدھ کو کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UN Security Council) جمعے کو بحیرہ بالٹک میں نورڈ اسٹریم پائپ لائنوں (Nord Stream pipelines) کے لیکس پر بات چیت کرے گی، جس پر تخریب کاری کا شبہ ہے۔

      سویڈن کی وزیر خارجہ این لِنڈے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جیسا کہ سلامتی کونسل کے موجودہ صدر فرانس نے آج ہمیں مطلع کیا ہے کہ روس نے نورڈ اسٹریم لیکس کے بارے میں ایک میٹنگ کی درخواست کی ہے اور یہ میٹنگ جمعہ کو ہوسکتی ہے۔

      نورڈ اسٹریم 1 اور 2 پائپ لائنیں روس کو جرمنی سے جوڑتی ہیں، حالیہ مہینوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا مرکز رہی ہیں کیونکہ روس نے یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد مغربی پابندیوں کے خلاف مشتبہ جوابی کارروائی میں یورپ کو گیس کی سپلائی میں کمی کر دی تھی۔

      لنڈے نے کہا کہ ڈنمارک اور سویڈن سے کہا گیا کہ وہ سلامتی کونسل کے اراکین کو ان کے خصوصی اقتصادی زونز میں ہونے والی لیکس کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ سلامتی کونسل کی فرانسیسی صدارت نے بعد ازاں تصدیق کی کہ یہ اجلاس جمعہ کی سہ پہر نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہوگا۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے دمتری پولیانسکی نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بتایا کہ یہ ملاقات سہ پہر 3 بجے پر ہوگی۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      اگرچہ پائپ لائنیں فی الحال کارکرد نہیں ہیں، لیکن ان دونوں میں اب بھی گیس موجود ہے۔ روسی گیس کمپنی Gazprom کے زیر ملکیت کنسورشیم کی اکثریت کے یہ پائپ لائنیں چلائی جارہی ہیں۔ ماسکو اور واشنگٹن دونوں نے بدھ کو اس بات سے انکار کیا کہ وہ مشتبہ تخریب کاری کے ذمہ دار ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: