உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Taliban: ’خواتین اور لڑکیوں پرسے پابندیاں اٹھائے‘، اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے طالبان سےکیا مطالبہ

    طالبان نے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔

    طالبان نے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔

    جملہ 15 رکنی کونسل نے بند دروازوں کے پیچھے صورتحال پر بات چیت کے تقریباً دو ہفتے بعد ناروے کے تیار کردہ بیان پر اتفاق کیا۔ اس نے طالبان کی طرف سے افغانستان میں انسانی حقوق اور خواتین اور لڑکیوں کی بنیادی آزادیوں کے احترام کے بڑھتے ہوئے کٹاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    • Share this:
      اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (United Nations Security Council) نے منگل کے روز افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) حکام سے ان پالیسیوں اور طریقوں کو تیزی سے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جو افغان خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق اور آزادیوں کو محدود کر رہی ہیں۔

      جملہ 15 رکنی کونسل نے بند دروازوں کے پیچھے صورتحال پر بات چیت کے تقریباً دو ہفتے بعد ناروے کے تیار کردہ بیان پر اتفاق کیا۔ اس نے طالبان کی طرف سے افغانستان میں انسانی حقوق اور خواتین اور لڑکیوں کی بنیادی آزادیوں کے احترام کے بڑھتے ہوئے کٹاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

      اس ماہ کے شروع میں طالبان نے خواتین کو حکم دیا کہ وہ عوام میں اپنا چہرہ ڈھانپیں، جسے اسلام پسند گروپ کی ماضی کی حکمرانی کی پالیسی کی طرف واپسی قرار دیا جارہاہے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کے نشریاتی اداروں سے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقامی اسٹیشنوں پر نشر ہونے والی خواتین اپنے چہروں کو ڈھانپیں۔

      سلامتی کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے اراکین نے طالبان سے ان پالیسیوں اور طریقوں کو تیزی سے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جو اس وقت افغان خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو محدود کر رہی ہیں۔

      سال 1996 سے 2001 تک طالبان کے سابقہ ​​دور حکومت میں خواتین کو پردہ کرنا پڑتا تھا، وہ کام نہیں کر سکتے تھے اور لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی تھی۔ لیکن گزشتہ سال اگست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان نے کہا کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔

      مزید پڑھیں: Attention SBI Customers: ایس بی آئی کے صارفین توجہ دیں! ایسا چرایا جارہا ہے ذاتی ڈیٹا! رہیں ہوشیار

      تاہم مارچ می، طالبان اپنے اس اعلان سے پیچھے ہٹ گئے کہ ہائی اسکول لڑکیوں کے لیے کھولے جائیں گے اور کہا کہ وہ اس وقت تک بند رہیں گے جب تک کہ ان کے دوبارہ کھولنے کے لیے اسلامی قانون کے مطابق کوئی منصوبہ نہیں بنایا جاتا۔

      مزید پڑھیں: پاکستان میں عمران خان کی پارٹی کے 250 سے زیادہ کارکنان گرفتار، ایک پولیس اہلکار کی موت

      سلامتی کونسل نے طالبان سے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے تمام طالبات کے لیے اسکول دوبارہ کھولنے کے اپنے وعدوں پر عمل کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: