ہوم » نیوز » عالمی منظر

دنیا بھر میں 47 کروڑ افراد بےروزگار : اقوام متحدہ

رپورٹ میں اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سست معیشت کے باعث نوکریوں میں کمی سے بےروزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے جس وجہ سے رواں سال بےروزگار افراد کی تعداد 18 کروڑ 80 لاکھ سے بڑھ کر 19 کروڑ 5 لاکھ ہونے کا امکان ہے۔

  • Share this:
دنیا بھر میں 47 کروڑ افراد بےروزگار : اقوام متحدہ
رپورٹ میں اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سست معیشت کے باعث نوکریوں میں کمی سے بےروزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے جس وجہ سے رواں سال بےروزگار افراد کی تعداد 18 کروڑ 80 لاکھ سے بڑھ کر 19 کروڑ 5 لاکھ ہونے کا امکان ہے۔

اقوام متحدہ کے شعبہ لیبر کی سالانہ’ ورلڈ ان امپلائمنٹ اینڈ آؤٹ لک ‘رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 47 کروڑ افراد بےروزگار یا چھوٹے ملازمین ہیںآئی ایل او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 28 کروڑ 50 لاکھ افراد چھوٹی ملازمتوں سے منسلک ہیں، جبکہ بےروزگاری کی شرح عالمی لیبر فورس کا 13 فیصد ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سست معیشت کے باعث نوکریوں میں کمی سے بےروزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے جس وجہ سے رواں سال بےروزگار افراد کی تعداد 18 کروڑ 80 لاکھ سے بڑھ کر 19 کروڑ 5 لاکھ ہونے کا امکان ہے۔

عالمی شعبہ لیبر کے مطابق گزشتہ عشروں میں بےروزگاری کی شرح مستحکم رہی، گزشتہ سال بےروزگاری کی فیصد 5.4 فیصد رہی جس میں بہتری کا امکان نہیں جبکہ روزگار کے بہتر مواقع سے محرومی سماجی بےامنی کا باعث بن سکتی ہے۔

دوسری جانب آئی ایل او کے سربراہ گائے رائیڈر نے کہا ہے کہ بہتر روزگار تک عدم رسائی عالمی سطح پر احتجاجی تحریکوں کا باعث بن سکتی ہے، یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔رائیڈر کا کہنا تھا کہ کام کرنے والے کروڑوں افراد کے لئے بہتر زندگی گزارنا مشکل ہورہا ہے، عدم مساوات اور اخراج لوگوں کو بہتر نوکری اور بہتر مستقبل کے حصول سے روک رہا ہے۔

First published: Jan 21, 2020 06:39 PM IST