ہوم » نیوز » عالمی منظر

ہندوستان میں بچہ مزدوری قانون میں ترمیم سے اقوام متحدہ فکر مند

اقوام متحدہ نے بچوں کی حفاظت کے لئے ایک مضبوط مسودے کے لئے بل کے کچھ دفعات کو ہٹانے اور خطرناک کاروبار وں کی مکمل فہرست کے ساتھ ایک مضبوط نگرانی نظام قائم کرنے کی اپیل کی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Jul 29, 2016 12:26 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہندوستان میں بچہ مزدوری قانون میں ترمیم سے اقوام متحدہ فکر مند
اقوام متحدہ: فائل فوٹو

اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے ہندوستانی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے بچہ مزدوری ترمیمی بل کے سلسلے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خاندانی کام کو قانونی حیثیت مل سکتی ہے اور غریب خاندانوں کے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بچوں کی حفاظت کے لئے ایک مضبوط مسودے کے لئے بل کے کچھ دفعات کو ہٹانے اور خطرناک کاروبار وں کی مکمل فہرست کے ساتھ ایک مضبوط نگرانی نظام قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔

یونیسیف انڈیا میں تعلیمی سربراہ يوفٹریٹس گوبنا نے کہا کہ نئے چائلڈ لیبر قانون کے تحت بچہ مزدوری کے کئی طریقے پوشیدہ رکھے جا سکتے ہیں اور پسماندگی کے شکار بچوں کی اسکولی حاضری کم ہو سکتی ہے، سیکھنے کی سطح کم ہو سکتی ہے اور وہ اسکول چھوڑنے کے لئے مجبور ہو سکتے ہیں۔ گوبنا نے کہا کہ خاص طور پر مزدوری کرنے والے انتہائی غریب بچوں کے لئے ثانوی رجسٹریشن اب بھی کافی پیچھے ہے۔

ہندوستانی پارلیمنٹ میں بچہ مزدوری ترمیمی بل پر نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی نے بل کے کئی دفعات کی سخت مخالفت کی ہے ۔ جس کے بعد اقوام متحدہ نے اسے نوٹس میں لیا ہے۔ سماجی کارکن ہرش مندر نے کہا کہ اس بل سے خاندانی کام کے جواز کا حوالہ دے کر لاکھوں بچوں کو خطرناک کاموں میں دھکیل دیا جائے گا۔

First published: Jul 29, 2016 12:25 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading