உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اقوام متحدہ کا سعودی عرب سے سوال ، اتحادی یمن میں بچوں کی اموات سے کس طرح کرتے ہیں گریز

    اقوام متحدہ: فائل فوٹو

    اقوام متحدہ: فائل فوٹو

    اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ اسے بتائے کہ وہ یمن میں حملے کرتے وقت بچوں کی ہلاکت سے بچنے کے لئے کیا اقدام کررہا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ اسے بتائے کہ وہ یمن میں حملے کرتے وقت بچوں کی ہلاکت سے بچنے کے لئے کیا اقدام کررہا ہے۔ کیونکہ ریاض حکومت نے کہا تھا کہ وہ فوجی کارروائی بہت احتیاط سے کررہا ہے۔‘‘
      بان کی مون نے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے نیویارک میں مل کر عالمی ادارے کی بچوں کی ہلاکت کے بارے میں رپورٹ پر مزید تبادلہ خیال کیا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے یمن پر حملوں کے خلاف بچوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے مختصر عرصہ کے لئے سعودی قیادت والے فوجی اتحادی کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔
      بان کے ترجمان اسٹیفن دوچارک نے ملاقات کے بعد بتایا ’’ سکریٹری جنرل نے اس بات کا خیر مقدم کیا ہے کہ اتحاد بچوں کے خلاف ہونے والے حملوں کو روکنے اور ان کے خاتمہ کے لازمی ٹھوس اقدامات کرنے کے لئے تیار ہے۔‘‘ بان نے جبیر سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ 2 اگست کو رپورٹ پر سلامتی کونسل کی میٹنگ سے قبل اتحاد یہ بتاسکے گا کہ انہوں نے کیا ٹھوس اقدام کئے ہیں۔
      بان نے پچھلے ماہ رپورٹ پر سعودی عرب کے نائب ولی عہد پرنس محمد بن سلمان سے بھی بات کی تھی۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی باتیں درست معلومات پر مبنی نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اتحاد جس نے ایران نواز حوثی باغیوں کو شکست دینے کے غرض سے مارچ 2015 میں یمن پر فضائی حملے شروع کئے تھے، پچھلے سال لڑائی میں 60 فیصد بچوں کی ہلاکت اور انہیں زخمی کرنے کی قصوروار ہے اس دوران 510 ہلاک اور 667 زخمی ہوئے تھے۔
      جبیر نے بان سے ملنے کے بعد اخباری نمائندوں کو بتایا ’’جہاں جہاں غلطی ہوئی ہے ہم اعتراف کرتے ہیں اور اس کی نشاندہی کرتے ہیں مگر عام طور سے ہم کارروائی بہت احتیاط سے کرتے ہیں تاکہ عام شہریوں خصوصا بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘‘ جبیر نے کہا ’’ہم بین الاقوامی قوانین کے پابند ہیں اور تمام کارروائیوں کے دوران ان پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔
      سعودی قیادت والے اتحاد میں متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، مصر، اردن، مراکش، سینیگال اور سوڈان شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے جنوری میں کہا کہ لگتا ہے کہ اتحاد نے یمن میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا اور بعض حملے ایسے ہیں جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا جاسکتا ہے۔
      واضح رہے کہ سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کو بلیک لسٹ کردیا گیا تھا مگر بعد میں اتحاد کو اس لسٹ سے نکال دیا کیونکہ سعودی عرب عالمی ادارے کو بہت زیادہ چند دیتا ہے اور اس نے اس میں کٹوتی کی دھمکی دی تھی۔ سعودی عرب اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس نے دھمکیاں دی ہیں مگر بان نے ’’ناقابل قبول‘‘ دباؤ ڈالنے کے لئے ریاض حکومت کو لتاڑا تھا۔
      First published: