உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی اور ان کی حالت زار پر میانمار حکومت کو اقوام متحدہ کا انتباہ

    روہنگیا مہاجرین: فائل فوٹو

    روہنگیا مہاجرین: فائل فوٹو

    اقوام متحدہ۔ میانمار میں شمال مغربی صوبہ راخین سے روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی اور ملک میں ان کی حالت زار پر بین الاقوامی سطح پر تشویشات ظاہر کئے جانے کے درمیان اقوام متحدہ نے میانمار حکومت کو وارننگ جاری کی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      اقوام متحدہ۔ میانمار میں شمال مغربی صوبہ راخین سے روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی اور ملک میں ان کی حالت زار پر بین الاقوامی سطح پر تشویشات ظاہر کئے جانے کے درمیان اقوام متحدہ نے میانمار حکومت کو وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گيا ہے کہ میانمار میں آنگ سان سوکی کی حکومت اور فوج کی مقبولیت خطرے میں ہے۔ میانمار کے راخین صوبہ میں فوج کی حمایت یافتہ بدھسٹ طبقہ اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان پرتشدد تنازعہ کے سبب سیکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے متصل مغربی سرحدی علاقے میں فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے، جن کے ساتھ میانمار کی فوج نے ناروا سلوک کیا ہے۔ روہنگيا مسلمانوں کے اس بحران سے گزشتہ سال قومی مصالحت کے وعدے پر اقتدار سنبھالنے والی نوبل ایوارڈ یافتہ لیڈر آنگ سان سوکی کے لئے سنگین چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔ نسلوں کے قتل عام کے انسداد سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر اڈامہ ڈینگ نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ " روہنگيا مسلمانوں کے فرار اور ان کے استحصال کے الزامات کی فوری تحقیقات کی جانی چاہئے اور حکومت کو متاثرہ علاقے کا جائزہ لینے کے لئے معائنہ کاروں کو وہاں پہنچنے کی اجازت دینی چاہئے"۔


      مسٹر ڈینگ نے کہاکہ" اگر روہنگیا طبقہ کے استحصال کا الزام صحیح ہے، تو ہزاروں لوگوں کو جان کا خطرہ لاحق ہے، نیز اس سے میانمار کی شبیہ، وہاں کی نئی حکومت کی مقبولیت اور فوج کا وقار بھی داؤ پر ہے"۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کو قانون کی حکمرانی اور ملک کے تمام باشندوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے تئيں اپنے عزم پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے یہ امید نہيں کرنی چاہئے کہ اس طرح کے سنگین الزامات کو نظر انداز کردیا جائے گا اور ان کی کوئي خبر نہيں لی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 9 اکتوبر کو سرحدی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے پر جوابی کاررائی کرتے ہوئے میانمار کی فوج بنگلہ دیش سے متصل سرحدی علاقے میں داخل ہوئی تھی اور اس کارروائي کے دوران سیکڑوں افراد کا قتل کیا گیا تھا۔


      مقامی باشندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ راخین صوبہ میں فوجی كارروائی کے دوران روہنگیا خواتین کی عصمت دری کی گئي ہے ، ان کے گھروں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا اور سیکڑوں لوگوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔ تاہم میانمار کی فوج اور حکومت نے ان الزامات كی تردید کی ہے۔ واضح رہے کہ روہنگیا لوگوں کا تعلق میانمار کے مغربی صوبہ راخین سے ہے لیکن میانمار کی حکومت تقریبا 10 لاکھ لوگوں والے اس طبقہ کو غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر خیال کرتی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ زیادہ تر روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کی شہریت نہیں دی جاتی ہے اور فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے ہزاروں لوگ وہاں سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہیں۔


      اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر نے اپنی وارننگ میں کہا کہ " میانمار کی حکومت کو ایک بار اور تمام لوگوں کے لئے روہنگیا مسلمانوں اور دیگر مذہبی و نسلی اقلیتوں کی صورتحال کا مستقل حل نکالنا ضروری ہے اور اس مسئلے کا پائیدار حل عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے، جن کے احترام کا میانمارحکومت نے وعدہ کیا ہے"۔

      First published: