ہوم » نیوز » عالمی منظر

اقوام متحدہ نے عرب اتحاد کو یمن سے متعلق بلیک لسٹ گروپ سے نکال دیا

دبئی۔ سعودی عرب کی طرف سے سخت نکتہ چینی کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب ممالک کے فوجی اتحاد کو یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں بالخصوص بچوں کے قتل عام کے مرتکب گروپوں سے نکال دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 07, 2016 12:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اقوام متحدہ نے عرب اتحاد کو یمن سے متعلق بلیک لسٹ گروپ سے نکال دیا
دبئی۔ سعودی عرب کی طرف سے سخت نکتہ چینی کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب ممالک کے فوجی اتحاد کو یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں بالخصوص بچوں کے قتل عام کے مرتکب گروپوں سے نکال دیا ہے۔

دبئی۔ سعودی عرب کی طرف سے سخت نکتہ چینی کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب ممالک کے فوجی اتحاد کو یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں بالخصوص بچوں کے قتل عام کے مرتکب گروپوں سے نکال دیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سکریٹری جنرل بان کی مون کی ہدایت پر عرب اتحاد کو یمن میں بلیک لسٹ گروپوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں سعودی عرب اور دیگر عرب اتحادیوں کو یمن میں بچوں کے قتل اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں قصور وار قرار دیا گیا تھا۔ اس پر سعودی عرب کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔


عرب اتحاد کو بلیک لسٹ گروپ سے نکالے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے کہا کہ منطق، دلیل اور درست معلومات نے بان کی مون کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پرمجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب اتحاد کو بلیک لسٹ گروپوں سے نکالے جانے کا فیصلہ حتمی ہے۔ اس پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔ المعلمی کا کہنا تھا کہ غلط طورپر اقوام متحدہ کی رپورٹ میں عرب اتحاد کو دہشت گردی کا مرتکب قرار دینے پر عالمی ادارے کو معافی مانگنی چاہیے۔ یہ ایک غلطی تھی جسے سعودی عرب اور دوسرے عرب اتحادیوں نے فورا مسترد کردیا تھا۔


انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پہلے ہی علم تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بیان کردہ دعوے غلط اور بے بنیاد ہیں اور عرب اتحاد کو اس پر رد عمل ظاہر کرنے کا حق ہے۔ قبل ازیں سعودی مشیر دفاع اور عرب اتحاد کے ترجمان جنرل احمد عسیری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مستند دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ اقوام متحدہ کا صنعاء میں قائم ہائی کمیشن یمنی باغیوں کےساتھ آئینی حکومت کی طرز پر معاملات طے کرتا رہا ہے۔

First published: Jun 07, 2016 12:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading