உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا امریکہ کو کھٹک رہی ہے ہندوستان-روس کی دوستی؟ یوکرین بحران کی آڑ میں US نے دیا بڑا بیان

    کیا امریکہ کو کھٹک رہی ہے ہندوستان-روس کی دوستی؟

    کیا امریکہ کو کھٹک رہی ہے ہندوستان-روس کی دوستی؟

    بدھ کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے بدھ کو ہندوستان سے یوکرین پرحملہ کے بعد ہندوستان پر زور دیا کہ وہ اپنے ہتھیار فراہم کرنے والے اہم ملک روس سے خود کو دور رکھے، جس کی نئی دہلی نے ابھی تک مذمت نہیں کی ہے۔ ایک امریکی سفارت کار نے کہا، "روسی بینکوں پر نئی امریکی پابندیوں سے ممالک کے لئے ماسکو سے اہم دفاعی سازوسامان خریدنا مشکل ہو جائے گا۔

    • Share this:
      واشنگٹن: بدھ کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے بدھ کو ہندوستان سے یوکرین پرحملہ کے بعد ہندوستان پر زور دیا کہ وہ اپنے ہتھیار فراہم کرنے والے اہم ملک روس سے خود کو دور رکھے، جس کی نئی دہلی نے ابھی تک مذمت نہیں کی ہے۔ ایک امریکی سفارت کار نے کہا، "روسی بینکوں پر نئی امریکی پابندیوں سے ممالک کے لئے ماسکو سے اہم دفاعی سازوسامان خریدنا مشکل ہو جائے گا۔ تاہم، واشنگٹن نے نئی دہلی کو روسی زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی ترسیل کے لئے چھوٹ دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

      ہندوستان نے روس سے S-400 میزائل سسٹم کے لئے معاہدہ کیا ہے

      آپ کی جانکاری کے لئے بتادیں کہ ہندوستان نے 2018 میں پانچ S-400 میزائل سسٹم خریدنے کے لئے روس کے ساتھ  5.5 بلین ڈالر کے سودے پر دستخط کیا تھا، جس کی شروعاتی فراہمی گزشتہ سال کے آخر میں شروع ہوئی تھی۔ امریکہ نے اپنے عالمی اور ڈپلومیسی شراکت داروں کے لئے ایک قانون بنایا تھا، جس کا مقصد ممالک کو روسی فوجی ہارڈ ویئر خریدنے سے روکنا تھا۔ ہندوستان نے اس قانون کی پرواہ کئے بغیر روس کے ساتھ S-400 میزائل سسٹم کے لئے معاہدہ کیا تھا۔

      روس کے ذریعہ گزشتہ ہفتے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے ماسکو پر کئی طرح کی پابندیاں لگائی ہیں، جن میں روسی بینکوں پر بھی پابندی نافذ کی ہے۔ جنوبی ایشیائی معاملوں کے معاون امریکی وزارت خارجہ ڈونالڈ لو نے امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ روس کے بینکون پر لگائی گئی عالمی پابندیوں کے سبب دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے ماسکو سے اہم ہتھیار ہتھیاروں کا نظام خریدنا بہت مشکل ہوگا۔

      ہندوستان نے عوامی طور پر روس کی تنقید سے انکار کیا

      ڈونالڈ لو نے یہ بھی کہا کہ امریکی افسران نے ’روس کے حملے کی مذمت کرنے والی اجتماعی ردعمل کی اہمیت کو انڈر لائن کرنے کے لئے ہندوستان کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ ہندوستان واحد اہم امریکی اتحادی ہے، جس نے عوامی طور سے ماسکو کی تنقید کرنے سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ اس نے تشدد کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ روس، ہندوستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔ تاہم، 2011 سے، نئی دہلی نے ماسکو سے اپنی درآمدات میں 53 فیصد کمی کی ہے اور امریکہ سے خریداری میں اضافہ کیا ہے۔

      سینیٹروں کے ذریعہ یہ پوچھے جانے پرکہ کیا یوکرین کے بحران نے جو بائیڈن انتظامیہ کی روس سے ہتھیاروں کی خریداری میں استثنیٰ کے بارے میں موقف بدلا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈونلڈ لو نے کہا، ’میں چھوٹ کے موضوع پر یا منظوری کے موضوع پر یا یوکرین پر روس کے حملے کا اس فیصلے پر اثر پڑے گا، اس موضوع پر صدر یا سکریٹری کے فیصلوں کا اندازہ لگانے میں اہل نہیں ہوں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: