ہوم » نیوز » عالمی منظر

کسی ادیب کو اس کی وسیع النظری بقائے دوام عطا کرتی ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

ترکی کے دارالسلطنت انقرہ میں واقع شاندار انقرہ یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیراہتمام یونیورسٹی کے انتالیہ مرکز کے ہوٹل اورسیم میں معروف شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کا افتتاح ہوا۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 15, 2016 12:21 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کسی ادیب کو اس کی وسیع النظری بقائے دوام عطا کرتی ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم
ترکی کے دارالسلطنت انقرہ میں واقع شاندار انقرہ یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیراہتمام یونیورسٹی کے انتالیہ مرکز کے ہوٹل اورسیم میں معروف شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کا افتتاح ہوا۔

ترکی۔  ترکی کے دارالسلطنت انقرہ میں واقع شاندار انقرہ یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیراہتمام یونیورسٹی کے انتالیہ مرکز کے ہوٹل اورسیم میں معروف شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کا افتتاح کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی محترمہ ناہید قاسمی (احمد ندیم قاسمی کی بڑی صاحب زادی) نے کہا کہ مجھے وہ آج بے حد  یاد آرہے ہیں۔  وہ ایک بڑے شاعر، افسانہ نگار، کالم نویس اور اعلیٰ پائے کے مدیر تو ہی تھے لیکن ایک بہترین انسان اور شفیق و بہترین باپ بھی تھے۔ پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کی روح رواں صدر شعبہ اردو انقرہ یونیورسٹی پروفیسر آسماں ہیلن آزکن نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً نو مہینے کی محنت رنگ لائی اور آج یہ یادگار تاریخ ساز کانفرنس منعقد ہوئی۔


انہوں نے کہا کہ گذشتہ 15 جولائی کو ترکی کے سیاسی حالات کی تبدیلی نے ہمیں خوف زدہ کردیا تھا۔ ہم لوگوں نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم اپنی سرکار کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمیں اپنے کانفرنس کے انعقاد میں بھرپور تعاون دیا۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ترکی جیسے ملک میں اردو ادب کانفرنس کا انعقاد اردو کی بین الاقوامیت کا ثبوت ہے۔ یہ کانفرنس بین الاقوامی سطح پر اردو کی مقبولیت اور تشہیر و تبلیغ کے نئے در وا کرے گی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے مزید کہا کہ کسی ادیب کو اس کی وسیع النظری بقائے دوام عطا کرتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی اپنی انسان دوستی اور وسیع النظری کی بنا پر انتقال کے بعد بھی زندہ ہیں۔ بڑا ادیب کسی بھی تحریک سے بڑا ہوتا ہے۔ انھوں نے منتظمین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آج جب کہ ہندو پاک میں اردو کے زوال پذیر ہونے کا رونا رویا جارہا ہے ترکی میں انقرہ یونیورسٹی کے ذریعے منعقدہ یہ کانفرنس ہم اردو والوں کے لیے ایک سبق ہے۔


افتتاحی اجلاس میں احمد ندیم قاسمی پر مبنی ایک دستاویزی فلم ’ندیم کہانی‘ دکھائی گئی جس میں احمد ندیم قاسمی کے بچپن، جوانی ، تعلیم، ملازمت اور ادبی تخلیقات پر مفصل روشنی ڈالی گئی۔ کانفرنس کا باضابطہ اجلاس معروف ناقد پروفیسر انوار احمد کی صدارت میں شروع ہوا۔ اس سیشن میں جاپان کی اوساکا یونیورسٹی سے پروفیسر مرغوب حسین طاہر نے ’احمد ندیم قاسمی کی غزل‘ کا بھرپور جائزہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ قاسمی کی غزل دل کی آواز ہے جس میں تصوف بھی ہے اور تغزل بھی۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری صدر شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ انڈیا نے ’احمد ندیم قاسمی کے افسانوی ابعاد‘ پر مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں انسان دوستی، جاگیر دارانہ ظلم و جبر، مفلوک الحال کسان اور مزدور، مظلوم عورت جیسے موضوعات پر کامیاب افسانے تحریر کیے۔


ڈاکٹر عقیلہ بشیر (پاکستان) نے ’احمد ندیم‘ کے افسانے تانیثی تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاسمی کے افسانے خواتین کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں اور ان کے متعدد خواتین کردار سماج میں اپنے حقو ق کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ پروفیسر قاضی عبدالرحمن عابد (ملتان) نے ’احمد ندیم کے خاکے : متوازی ادبی تاریخ‘ پیش کرتے ہوئے ادبی تاریخ نویسی پر بحث کی خصوصاً بیسویں صدی کی ادبی تاریخ نویسی کے مسائل کا احاطہ کیا۔

First published: Oct 15, 2016 12:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading