உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ نے اپنے شہریوں کو دی ہندستان نہ جانے کی صلاح، پاکستان۔ شام کے زمرے میں ڈالا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی فائل فوٹو

    ڈونلڈ ٹرمپ کی فائل فوٹو

    امریکہ نے ہندستان کے سفر کے لئے درجہ بندی 4 مقرر کی ہے، جسے سب سے خراب مانا جاتا ہے۔ اسی درجہ بندی میں امریکہ نے جنگ زدہ شام، دہشت گردی کے مرکز پاکستان، ایران، عراق اور یمن جیسے ملکوں کو رکھا ہوا ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن۔ ہند۔ امریکہ دوستی (India-US friendship) بھلے ہی نئے باب قائم کر رہی ہو لیکن ٹرمپ انتظامیہ (Donald Trump) نے ایک سخت قدم اٹھاتے ہوئے اپنے شہریوں کو ہندستان نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ نے اس ایڈوائزری کے لئے کوئی واضح وجہ نہیں بتائی ہے لیکن اس طرح کی ایڈوائزی صرف دہشت گردی، داخلی جنگ، منظم جرائم اور وبا جیسے اسباب سے ہی دی جاتی ہے۔ امریکہ نے ہندستان کے سفر کے لئے درجہ بندی 4 مقرر کی ہے، جسے سب سے خراب مانا جاتا ہے۔ اسی درجہ بندی میں امریکہ نے جنگ زدہ شام، دہشت گردی کے مرکز پاکستان، ایران، عراق اور یمن جیسے ملکوں کو رکھا ہوا ہے۔

      ہندستان کے لئے اس ایڈوائزری کا سبب بڑھتے کورونا کے معاملے بتائے جا رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اسی کے پیش نظر انتظامیہ نے شہریوں کو ہندستان کا سفر نہ کرنے کی صلاح دی ہے۔ امریکی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کورونا کے علاوہ ہندستان میں جرائم اور دہشت گردی میں تیزی آئی ہے۔ اس ایڈوائزری میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم اور انتہاپسندی کو بھی سفر نہ کرنے کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔ حالانکہ انڈین ٹورزم اینڈ ہاسپیٹلٹی ادارے نے حکومت ہند سے گہار لگائی ہے کہ وہ امریکی حکومت سے ٹریول ایڈوائزری کو بدلنے کے لئے دباو ڈالے۔


      ٹرمپ۔ مودی کے رشتوں پر اثر

      ہاسپیٹیلٹی ادارے نے کہا ہے کہ حکومت اسے ترجیح کی بنیاد پر اٹھائے تاکہ ملک کے بارے میں بن رہی منفی شبیہ کو روکا جا سکے۔ ادارے نے کہا کہ اس وقت سیاحت کی صنعت کورونا وبا کی وجہ سے سنگین بحران سے گزر رہی ہے اور جلد ہی ہندستان میں یہ صنعت پھر سے اپنے آپ کو شروع کرنے جا رہی ہے۔ 23 اگست کو جاری اس ٹریول ایڈوائزری میں ہندستان کے علاوہ پاکستان، شام، یمن، ایران اور عراق جیسے تشدد زدہ ملکوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رشتے اتنے اچھے ہونے کے باوجود اس طرح کا قدم سمجھ سے باہر ہے۔
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: