ٹرمپ کے بیان پر امریکہ کی صفائی، کہا۔ کشمیر دو طرفہ مسئلہ ہے، ہند۔ پاک مل کر کریں حل

ٹرمپ نے واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد آج مشترکہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں پر دعوی کیا تھا کہ ’’ مودی نے حال ہی میں ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ کشمیر مسئلے پر ثالثی کریں گے‘‘۔

Jul 23, 2019 11:10 AM IST | Updated on: Jul 23, 2019 11:29 AM IST
ٹرمپ کے بیان پر امریکہ کی صفائی، کہا۔ کشمیر دو طرفہ مسئلہ ہے، ہند۔ پاک مل کر کریں حل

ٹرمپ کے ساتھ وزیر اعظم مودی: فائل فوٹو۔

امریکی انتظامیہ نے کشمیر معاملہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’ثالثی‘ سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازع بیان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد منگل کو ٹرمپ کی غلطی سدھارتے ہوئے کہا ہے کہ ’کشمیر دونوں ممالک کا دو طرفہ مسئلہ ہے‘۔ جنوبی ایشیا کے لئے اعلیٰ امریکی سفارت کار ایلس ویلز نے ٹوئٹ کیا’’کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک دو طرفہ مسئلہ ہے۔ دونوں ملک مل کر اسے خود حل کریں۔ ٹرمپ انتظامیہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا خیر مقدم کرتی ہے اور امریکہ اس معاملے میں ان کی مدد کے لئے تیار ہے‘‘۔

خارجہ ہاؤس کمیٹی کے صدر ایلیٹ ایل اینجل نے امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ہرش وردھن شرنگلا سے بات کی اور کشمیر مسئلے پر امریکہ کی پہلے کی پالیسی کے تحت حمایت کرنے کی بات دوہرائی۔ انہوں نے کہا’’وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں فیصلہ صرف ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے ہی لیا جا سکتا ہے‘‘۔

قابل غور ہے کہ  ٹرمپ نے واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد آج مشترکہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں پر دعوی کیا تھا کہ ’’ مودی نے حال ہی میں ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ کشمیر مسئلے پر ثالثی کریں گے‘‘۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رويش کمار نے ٹرمپ کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے پیر دیر رات کہا کہ وزیر اعظم مودی نے امریکی صدر سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔

Loading...

اینجل نے یہ بات بھی دہرائی کہ بات چیت کے بامعنی ہونے کے لئے پاکستان کو پہلے اپنے ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اور ناقابل واپسی قدم اٹھانے ہوں گے۔

دریں اثنا، کیلی فورنیا کے سان فرناڈو ویلی سے کانگریس رکن بریڈ شیرمین نے ٹوئٹ کیا’’میں ٹرمپ کے شرمناک بیان کے لئے ہندوستانی سفیر ہرش وردھن شرنگلا سے معافی مانگتا ہوں‘‘۔ انہوں نے لکھا’’اگر کوئی جنوبی ایشیا کی خارجہ پالیسی کے بارے میں تھوڑی بھی معلومات رکھتا ہے اور اسے یہ پتہ ہے کہ ہندوستان کشمیر کے معاملہ میں کسی بھی تیسری پارٹی کی ثالثی کی مسلسل مخالفت کرتا آیا ہے۔ ہر کسی کو پتہ ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر مسئلہ پر کسی تیسری پارٹی کو ثالثی کرنے کے لئے کبھی نہیں کہیں گے‘‘۔

قابل غور ہے کہ  ٹرمپ نے پیر کویہ کہتے ہوئے تنازعہ کھڑا کر دیا کہ  مودی نے جون میں جاپان کے اوساکا میں ملاقات کے دوران ان سے کشمیر معاملہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’ثالثی‘ کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہندوستانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے اس دعویٰ کی تردید کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے بھی کہا کہ لگتا ہے کہ امریکی صدر کو اس بات کا تھوڑا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رويش کمار نے ٹوئٹر پر لکھا-’’ ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام اہم مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہو۔ پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت کے لئے سرحد پار سے دہشت گردی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے دوران وائٹ ہاؤس میں یہ متنازع بیان دیا تھا۔

Loading...