உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ میں حراستی مراکز میں نابالغوں سے ہوتے ہیں گھنونے کام، اب سامنے آئی حقیقت

     گزشتہ ہفتے ہی ویسٹ ٹیکساس کے ایک سابق کوچ کو 18 سالہ لڑکی کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    گزشتہ ہفتے ہی ویسٹ ٹیکساس کے ایک سابق کوچ کو 18 سالہ لڑکی کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    گزشتہ ہفتے ہی ویسٹ ٹیکساس کے ایک سابق کوچ کو 18 سالہ لڑکی کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    • Share this:
      آسٹن: امریکہ کے محکمہ انصاف نے بدھ کے روز ٹیکساس کے نوعمر حراستی مراکز میں بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں جہاں حالیہ برسوں میں جنسی استحصال کے الزام میں کم از کم 11 کا ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔بائیڈن انتظامیہ کا یہ اقدام ٹیکساس جوونائل جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے لیے پریشانی کی ایک اور علامت ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے گھوٹالوں اور ہراساں کرنے کے الزامات سے دوچار ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ویسٹ ٹیکساس کے ایک سابق کوچ کو 18 سالہ لڑکی کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

      ٹیکساس میں وکلاء نے وفاقی تفتیش کاروں سے شکایت کی کہ وفاقی عدالتی محکمہ نے تحقیقات کا اعلان کرنے سے ایک سال قبل پانچ جوونائل حراستی مراکز میں "سنگین مسائل" کے بارے میں شکایت کی تھی۔ ستمبر میں شائع ہونے والی ایک ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، ٹیکساس نے 2019 میں 800 سے زائد نوجوانوں کو ریاستی جوونائل حراستی مراکز (juvenile detention center) میں رکھا۔ یہ تعداد کسی بھی دوسری ریاست سے زیادہ تھی۔

      محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کرسٹن کلارک نے کہا: "بچوں کو نقصان دہ حالات میں رکھنے سے بچوں کی بحالی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ سے زندگی میں بہت برے نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: