امریکا کو پاکستان حکومت کے مستقبل پر خدشہ

واشنگٹن۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے حکومت پاکستان کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کا خواہاں ہے۔

Oct 05, 2017 08:18 PM IST | Updated on: Oct 05, 2017 08:19 PM IST
امریکا کو پاکستان حکومت کے مستقبل پر خدشہ

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن: فائل فوٹو، رائٹرز۔

واشنگٹن۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے حکومت پاکستان کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کا خواہاں ہے۔ یہاں پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امریکا وزیر خارجہ ٹلرسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات نے آپ کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ امریکا کے پاس پاکستان کی صورت میں ایک با اعتماد ساتھی موجود ہے تو اس کے جواب میں ریکس ٹلرسن نے کہا کہ ’جی ہاں، مجھے یقین ہے‘۔

ریکس ٹلرسن نے پاک امریکا تعلقات کو خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے جنوبی ایشیا کے لیے جو پالیسی مرتب کی ہے اس میں علاقائی تناظر میں ہی بات کی گئی ہے۔ نئی امریکی پالیسی میں افغانستان کے زاویے سے پاک امریکا تعلقات پر پاکستان کے خدشات کے ضمن میں بات کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے کہا کہ یہ پالیسی صرف افغانستان کے لیے نہیں ہے بلکہ پاکستان اور اس کے طویل مدتی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔ میڈیا کے نمائندے کی جانب سے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہمیں بھی پاکستان کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں خدشات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ  حکومت مستحکم ہوجائے‘۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، پاکستان کو پر امن دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اندرونی طور پر پاکستان جن مسائل سے نبرد آزما ہے وہی امریکا کے بھی مسائل ہیں۔

مسٹر ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں اور اسی لیے ہم خارجہ امور سے لیکر دفاعی امور اور انٹیلی جنس کمیونیٹیز کے معاملات کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی سطح پر بھی مواقع پیدا کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل پاکستان اور امریکی میڈیا میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں تھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان پر نئی ضرب لگاسکتی ہے جس میں پاکستان کی غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت کا خاتمہ اور اسے دی جانے والی فوجی اور معاشی امداد میں واضح کمی شامل ہے۔ علاوہ ازیں ذرائع ابلاغ میں یہ بھی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں پر ڈرون حملوں میں تیزی پر بات کی جائے گی۔ تاہم ریکس ٹلرسن نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ امریکا کو پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے معاملات میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ نئی امریکی پالیسی پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکا کی نئی حکمت عملی میں خطے کو زیر غور رکھا گیا ہے جبکہ اس خطے میں طویل مدتی امن و استحکام کے لیے پاکستان ایک اہم ملک ہے۔

Loading...

Loading...