ہوم » نیوز » عالمی منظر

امریکی قانون سازوں کی منفرد پہل، ہندوستان اور جنوبی افریقہ کی حمایت میں ’’فری ویکسین مہم‘‘ کا کیا آغاز

جنیوا میں ڈبلیو ٹی او جنرل کونسل کے اہم اجلاس سے ایک روز قبل 100 سے زائد ڈیموکریٹک کانگریسیوں بشمول پالیسی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد نے اس مہم کا آغاز کیا۔

  • Share this:
امریکی قانون سازوں کی منفرد پہل، ہندوستان اور جنوبی افریقہ کی حمایت میں ’’فری ویکسین مہم‘‘ کا کیا آغاز
امریکی قانون سازوں کی منفرد پہل، ہندوستان اور جنوبی افریقہ کی حمایت میں ’’فری ویکسین مہم‘‘ کا کیا آغاز

امریکہ کے مشہور ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ہندوستان اور جنوبی افریقہ کی مدد کے لیے عالمی تجارتی تنظیم کی حمایت سے ’’فری ویکسین مہم‘‘ کا آغاز کیا ہے۔ جنیوا میں ڈبلیو ٹی او جنرل کونسل کے اہم اجلاس سے ایک روز قبل 100 سے زائد ڈیموکریٹک کانگریسیوں بشمول پالیسی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد نے اس مہم کا آغاز کیا۔


کانگریس کے رکن لوئیڈ ڈوگیٹ نے ٹویٹ کیا کہ ’’اگر ہم ابھی کام نہیں کرتے ہیں تو ہندوستان اور افریقہ کی طرح وحشت دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتی ہے۔ ویکسین تک رسائی سے روکنا انسانیت سوز عمل ہے۔ اس سے سفارتی ضوابط کے مخالفت اور عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ میں کمی آسکتی ہے‘‘۔ کانگریس کی خاتون باربرا لی (Barbara Lee) نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔ کہا کہ ’’ہندوستان ابھی تباہی کے دھانے پر ہے۔ اگر ہم فری ویکسین بناتے ہے تو اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس ضمن میں پہل کریں‘‘ ۔


کانگریس کے رکن اینڈی لیون نے کہا کہ ’’ہندوستان کا صحت عامہ کا نظام مخدوش ہوچکا ہے۔ اب وقت نہیں ہے کہ وہ ترقی پذیر دنیا خود سے ویکسین اور ویکسین ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا‘‘۔ گذشتہ ہفتے ڈیموکریٹک قانون سازوں کے ایک گروپ نے اس معاملے پر وائٹ ہاؤس کووڈ۔19 رسپانس کوآرڈینیٹر جیف زینٹس سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اس تجویز کی حمایت کرے۔


قانون سازوں کے اس گروپ میں جان شاکوسکی، لائیڈ ڈاگگٹ، روزا ڈیلاؤورو، ارل بلو میناؤر، جیسیس گارسیا، باربرا لی، ایڈریانو ایسپییلٹ اور اینڈی لیون شامل تھے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 05, 2021 04:20 PM IST