اپنا ضلع منتخب کریں۔

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عنقریب اختتام، ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈالا ووٹ

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عنقریب اختتام، ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈالا ووٹ

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عنقریب اختتام، ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈالا ووٹ

    سبھی کی نگاہیں انتخابی نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں، جو طئے کرے گی کہ ایوان کا کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہوگا۔ حالانکہ عام رائے ہے کہ صدر جوبائیڈن کی پارتی کو ان نتائج سے جھٹکا لگے گا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Newyork
    • Share this:
      امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لئے ووٹنگ اب ختم ہونے کو ہے۔ سابق صدرڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فلوریڈا کے گورنر ران ڈیسینٹس کے لیے اپنا ووٹ ڈالا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، پام بیچ میں ایک ووٹنگ سینٹر کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کی انہوں نے ڈسینٹیس کے لئے ووٹ کیا، تو ٹرمپ نے کہا، ’ہاں، میں نے کیا۔‘ انہوں نے آگے کہا کہ، ’مجھے لگتا ہے کہ ریپبلکن کے لیے منگل کی رات بہت اچھی رات ہونے والی ہے اور یہ کافی دلچسپ ہے۔‘

      سی این این کے مطابق ٹرمپ نے اپنا ووٹ پام بیچ میں مارٹن اور باربرا منڈیل ری کرئیشن سینٹر میں ڈالا، جو ان کے مار-اے۔لاگو اسٹیٹ سے کچھ ہی منٹوں کی دوری پر ہے۔ ٹرمپ سابق خاتون اول میلینیا ٹرمپ کےساتھ یہاں پہنچے۔

      دا واشنگٹن پوسٹ نے بتایا کہ اس سے پہلے لاکھوں امریکی ورجینیا، میری لینڈ اور واشنگٹن ڈی سی میں اپنے ووٹنگ سینٹرس کی جانب جاتے نظر آئے۔ الیکشن کے نتائج ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ برسراقتدار ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ الیکشن اہم مانے جارہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ایس جے شنکر کا دورہ روس، روس۔ یوکرین تنازعہ سے متعلق ہندوستان کا کیا ہوگا تازہ موقف؟

      یہ بھی پڑھیں:
      ’پاکستان کی کمزورمعیشت کومستحکم کرنا ضروری‘ چین اورسعودی قرضوں سے پاک معیشت کوملےگاسھارا؟

      - COP27: ’دنیا موسمیاتی جہنم کی شاہراہ پر گامزن، موسمیاتی تبدیلی ہماری صدی کامرکزی چیلنج‘

      ہندوستانی وقت کے مطابق بدھ صبح ساڑھے پانچ بجے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے جب کہ دوپہر تک نتائج سامنے آجائیں گے۔ سبھی کی نگاہیں انتخابی نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں، جو طئے کرے گی کہ ایوان کا کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہوگا۔ حالانکہ عام رائے ہے کہ صدر جوبائیڈن کی پارتی کو ان نتائج سے جھٹکا لگے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: