ہوم » نیوز » عالمی منظر

امریکہ میں پناہ گزین کے خاندان کے دوبارہ ملانے کا منصوبہ منظور

امریکہ کے ایک وفاقی جج نے جمعہ کو میکسیکو میں امریکہ سے داخل ہونے پر سرحدی افسران کے الگ کئے گئے سینکڑوں پناہ گزیں خاندان کو دوبارہ ملانے کے منصوبہ کو منظوری دے دی۔

  • Share this:
امریکہ میں پناہ گزین کے خاندان کے دوبارہ ملانے کا منصوبہ منظور
علامتی تصویر

امریکہ کے ایک وفاقی جج نے جمعہ کو میکسیکو میں امریکہ سے داخل ہونے پر سرحدی افسران کے الگ کئے گئے سینکڑوں پناہ گزیں خاندان کو دوبارہ ملانے کے منصوبہ کو منظوری دے دی۔امریکی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈانا سبراو سینٹ ڈیاگو میں معاملےکی سماعت کے دوران کہا ’’عدالت مشترکہ مجوزہ منصوبہ کو منظور کرتی ہے ‘‘۔سماعت میں وزارت انصاف اور شہری آزادی کے وکیل بھی موجود تھے۔امریکی حکومت اور پناہ گزین کے حقوق کے حامیوں کی رضامندی کی بنیاد پر تیار اس منصوبے کو پانچ سے 17 سال سال کی عمر 2،551 بچوں کے ان خاندانوں کے ساتھ دوبارہ ملانے کے دوسرے مرحلہ کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ ان خاندانوں کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پناہ گزینوں کے تئیں زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت الگ الگ کیا گیا تھا۔


دوبارہ ملانے کے منصوبہ کے تحت، ان بچوں کے ملک کے باہر رہنے والے والدین کی شناخت کرکے، بچوں کے تئیں ان کی نیت کا پتہ لگایا جائے گا۔ اس ہفتے، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ حکومت دوبارہ ملانے کے منصوبہ میں آنے والا سفری خرچ برداشت کرے گی اور مستقبل میں پناہ گزین کے ان کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔


جمعرات تک، 2000 بچوں کو ان کے والدین کے ساتھ دوبارہ ملایا جاچکا ہے، جبکہ 541 بچے اب بھی پناہ گزین کیمپوں کے دفتر کے تحت اپنے والدین سے الگ ہیں ۔ اس کے علاوہ، پانچ سال سے کم عمر کے 24 بچے امریکی حکومت کی نگرانی میں ہیں۔


واضح رہے کہ مسٹر ٹرمپ کی پناہ گزین والدین اور بچوں سے الگ کرنے کی پالیسی پر امریکہ اور مختلف ممالک میں سخت تنقید کی گئی تھی۔
First published: Aug 18, 2018 03:28 PM IST