اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ایران میں حجاب مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکہ چراغ پا! کہا عالمی اداروں سے ایران کو کیا جائے خارج

    مظاہرے میں شدت اختیار کر رہے ہیں۔

    مظاہرے میں شدت اختیار کر رہے ہیں۔

    امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی ملک جو منظم طریقے سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے عالمی فورمز پر اجازت نہیں دی جانی چاہیے جس پر حقوقِ نسواں کی خلاف ورزی کا الزام ہو۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaIran Iran Iran Iran Iran
    • Share this:
      امریکہ نے ایران کو اقوام متحدہ میں خواتین سے متعلق کمیشن سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایران میں حجاب مخالف مظاہروں کے تئیں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو ستمبر کے وسط میں ایران کی ’اخلاقی پولیس‘ کی حراست میں ہلاک ہونے والی 22 سالہ لڑکی مہسا امینی (Mahsa Amini) کی موت کے بعد ہلچل مچا دی تھی۔

      امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی ملک جو منظم طریقے سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے عالمی فورمز پر اجازت نہیں دی جانی چاہیے جس پر حقوقِ نسواں کی خلاف ورزی کا الزام ہو۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کمیشن برائے خواتین (UNCSW) صنفی مساوات کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے، ہیریس نے کہا کہ ایران کا اپنے لوگوں کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن اسے اس کمیشن میں خدمات انجام دینے کے لیے نااہل ہے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودگی اس کی رکنیت کی سالمیت اور اس کے مینڈیٹ کو آگے بڑھانے کے کام کو بدنام کرتی ہے۔ امینی کی موت نے ایران میں افراتفری کو جنم دیا ہے۔ خواتین ملک میں حجاب سے متعلق ڈریس کوڈ کو سختی سے نافذ کرنے والی متنازعہ اخلاقی پولیس کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ اب تک 280 سے زائد مظاہرین کریک ڈاؤن میں مارے جا چکے ہیں لیکن حکام کی جانب سے بار بار انتباہ کے بعد بھی وہ مظاریرن کے جوش میں کمی نہیں آئی۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جن میں مظاہرین کو ’دھرنا‘ ہڑتالوں، سروں کے اسکارف جلاتے، بال کاٹتے اور سڑکوں پر علما کی پگڑیاں اچھالتے ہوئے دکھایا گیا ہے کیونکہ یہ مظاہرے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اہم ترین مظاہرے مانے جارہے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: