طالبان سےامریکہ کی بات چیت منسوخ ہونے سے پاکستان پریشان، ہندوستان خوش، جانیں وجہ

کابل میں ہوئے بم دھماکوں کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نےاس بات چیت کومنسوخ کردیا۔ ہندوستان پہلے سے ہی اس بات چیت کولےکرمطمئن نہیں تھا، لیکن پاکستان اورچین اب بہت پریشان ہیں۔

Sep 09, 2019 05:34 PM IST | Updated on: Sep 09, 2019 06:03 PM IST
طالبان سےامریکہ کی بات چیت منسوخ ہونے سے پاکستان پریشان، ہندوستان خوش، جانیں وجہ

افغانستان دھماکوں کے بعد امریکہ نے بات چیت منسوخ کی۔

امریکہ، افغانستان اورطالبان کےدرمیان ہونے والی بات چیت کوامریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے منسوخ کردیا ہے۔ یہ بات چیت کئی مرحلےکی خفیہ میٹنگ کےبعد امریکہ کےکیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی تھی، لیکن کابل میں ہوئےبم دھماکوں کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نےاس بات چیت کو منسوخ کردیا۔ ہندوستان پہلےسے ہی اس بات چیت کولےکرمطمئن نہیں تھا، لیکن پاکستان اور چین اب بہت پریشان ہیں۔ وہ مسلسل طالبان سےبات چیت کرنے کے حق میں تھا ، لیکن اب امریکہ نےخود ہی اس بات چیت کومنسوخ کردیا ہے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ اس بات پرمتفق تھےکہ امریکی فوجی جلد ہی افغانستان چھوڑدیں گے۔ ہندوستان کی پریشانی اسی بات کولےکرتھی۔ اب ہندوستان کولگتا ہےکہ اس بات چیت کے منقطع ہونے کے بعد پاکستان کےمنصوبے پرپانی پھرگیا ہے۔

Loading...

ہندوستان اس لئے نہیں چاہتا طالبان کے ساتھ بات چیت

ہندوستان اس لئے بھی طالبان کےساتھ اس بات چیت کےحق میں نہیں ہے، کیونکہ اس بات چیت میں امریکہ اس بات پرمتفق تھا کہ وہ اپنےفوجی افغانستان سےواپس بلا لےگا۔ اگرایسا ہوتا ہےتوطالبان پھرسےافغانستان میں مضبوط ہوجائیں گے۔ اس وقت ہندوستان نےافغانستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ امریکہ کےہٹنے سےممکن ہے، ہندوستان کو اپنے قدم افغانستان میں پیچھےکھینچنےپڑتے، اس کےعلاوہ طالبان کےمضبوط ہونے سے پاکستان کی دہشت گردانہ تنظیمیں بھی مضبوط ہوں گی اوریہ سب جموں وکشمیرکا ماحول خراب کرنےکی کوشش کرتے۔

ہندوستان کے ساتھ افغانستان بھی بات چیت کی مخالفت میں

طالبان کےساتھ بات چیت نہ کرنےکے حق میں ہندوستان کےساتھ ساتھ افغانستان بھی رہا ہے۔ حالانکہ امریکہ کےسبب اب تک کی بات چیت میں وہ شامل تھا۔ بات چیت منسوخ ہونے کے بعد افغانستان کےصدراشرف غنی کا کہنا ہے، اس علاقے میں صحیح معنوں میں تبھی امن ہوگا، جب طالبان اس طرح کے حملوں کوانجام دینا بند کرے گا اورافغانستان کی حکومت سے سیدھے بات چیت کرے گا۔ حالانکہ خود طالبان اپنے ہی ملک کی حکومت کوتسلیم نہیں کرتا۔ وہ افغان حکومت کوکٹھ پتلی سرکارکہتا ہے۔

Loading...