உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف ٹرمپ کی ہدایت پر کارروائی ہوئی: امریکی وزارت دفاع

    ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی فائل فوٹو۔(تصویر:اے ایف پی)۔

    ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی فائل فوٹو۔(تصویر:اے ایف پی)۔

    جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کے لئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہدایت پر حملے کیے گئے تھے۔پنٹاگن

    • Share this:
      امریکی وزارت دفاع ’پنٹاگن‘ نے جمعہ کو کہا کہ امریکی مسلح افواج نے بغداد میں جمعہ کو ایران کے اسلامی ریوولیوشنری گارڈ کور کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کے لئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہدایت پر حملے کیے گئے تھے۔پنٹاگن نے کہا کہ امریکی فوج نے صدر کی ہدایت پر ایرانی ریوولیوشنری گارڈ کورپس کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو قتل کر کے بیرون ملک امریکی اہلکاروں کی حفاظت کے لئے فیصلہ کن دفاعی کارروائی کی ہے۔ امریکہ نے قدس فورس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے‘‘۔

      امریکی صدر ٹرمپ ۔ فائل فوٹو ۔
      امریکی صدر ٹرمپ ۔ فائل فوٹو ۔


      پنٹاگون نے کہا کہ سلیمانی عراق اور مغربی ایشیا میں امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے عراق میں اتحاد کے ٹھکانوں پر گزشتہ چند ماہ میں کئی حملے کئے تھے جن میں 27 دسمبر کو ہوا حملہ بھی شامل تھا۔ اس حملے میں امریکی اور عراقی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ جنرل سلیمانی نے اس ہفتے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ہوئے حملوں کو بھی منظوری دی تھی۔

      بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ مستقبل میں ایران کی جانب سے حملے کی منصوبہ بندی کو روکنے کے مقصد سے کیا گیا۔ امریکہ اپنے لوگوں اور مفادات کی حفاظت کے لئے سبھی ضروری کارروائیاں کرنا جاری رکھے گا۔واضح رہے کہ عراق کے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب جمعہ کو ہوئے راکٹ حملے میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کورپس کے قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور ایران حمایت یافتہ تنظیم شیعہ پاپولر موبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے نائب سربراہ ابو مہدی المهاندس سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔
      First published: