ہوم » نیوز » عالمی منظر

جو بائیڈن نے ایران جوہری معاہدے کے لئے نئے مطالبات پیش کئے: رپورٹ

صدارتی انتخابی تشہیر کی مہم کے دوران جو بائیڈن نے ایران کے ساتھ معاہدے کو پھر سے بحال کرنے کی بات کی تھی۔ جو بائیڈن نے شرط رکھی ہے کہ اس کے لیے ایران کو جوہری مواد کی ذخیرہ اندوزی کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر معاہدے پر عمل کرنا ہوگا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 03, 2020 09:15 AM IST
  • Share this:
جو بائیڈن نے ایران جوہری معاہدے کے لئے نئے مطالبات پیش کئے: رپورٹ
جو بائیڈن کی فائل فوٹو

ماسکو۔ امریکہ کے متوقع صدر جو بائیڈن نے نیویارک ٹائمس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مدت کار میں اگر ایران ایٹیمی معاہدے پر سختی سے عمل درآمد کو تیار ہوتا ہے تو امریکہ دوبارہ مشترکہ جامع منصوبہ بندی (جے سی پی او اے) میں شامل ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کافی وقت پہلے خود کو اس معاہدے سے علاحدہ کر لیا تھا۔


صدارتی انتخابی تشہیر کی مہم کے دوران جو بائیڈن نے ایران کے ساتھ معاہدے کو پھر سے بحال کرنے کی بات کی تھی۔ جو بائیڈن نے شرط رکھی ہے کہ اس کے لیے ایران کو جوہری مواد کی ذخیرہ اندوزی کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر معاہدے پر عمل کرنا ہوگا۔ وہیں ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کو آگے کی بات چیت سے قبل اپنے بین الاقوامی وعدوں پر واپس لوٹنا چاہیے۔


جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کو ہٹانے کے لیے مثبت رویہ ظاہر کیا ہے۔ جو بائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے خیالات پر قائم رہیں گے تو انہوں نے کہا،’یہ مشکل ہے لیکن کوشش کی جائے گی۔ جو بائیڈن کے مطابق اگر ایران ایٹم بم بنا لیتا ہے تو سعودی عرب، ترکی، مصر اور دیگر ممالک پر ایٹیمی ہتھیار حاصل کرنے کا شدید دباؤ قائم ہو جائے گا۔


ایران نے 2015 میں امریکہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ کے ساتھ جے سی پی او اے پر دستخط کیے تھے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو واپس لے لے گا اور پابندیوں پر راحت کے عوض اپنے یورینیم ذخیرے میں بھی کافی کمی کرے گا۔ تاہم 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا اور اس کے بعد یہ معاہدہ کالعدم سمجھا جانے لگا تھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 03, 2020 09:15 AM IST