ہوم » نیوز » عالمی منظر

امریکی صدر جو بائیڈن کی پاکستان سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ حیران کن

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے پس منظر میں ایک سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے رابطے کرنے میں ہچکچاہٹ کو 'حیرت انگیز' قرار دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 23, 2021 03:34 PM IST
  • Share this:
امریکی صدر جو بائیڈن کی پاکستان سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ حیران کن
امریکی صدر جو بائیڈن کی پاکستان سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ حیران کن

واشنگٹن: افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے پس منظر میں ایک سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے رابطے کرنے میں ہچکچاہٹ کو 'حیرت انگیز' قرار دیا ہے۔ 'ڈان' میں شائع رپورٹ کے مطابق ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا کہ افغانستان کے انخلا کرتے ہوئے پاکستان کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ 'سن کر حیرت ہوئی کہ صدر جو بائیڈن نے امریکہ پاکستان تعلقات اور افغانستان کے سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے رابطہ نہیں کیا'۔ یلنزے گراہم جو کابل اور اسلام آباد کے ساتھ امریکی رابطوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے صدر جو بائیڈن کو یاددہانی کروائی کہ افغانستان سے ان کے انخلا کے منصوبے میں پاکستان کا تعاون درکار ہے۔


افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے پس منظر میں ایک سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے رابطے کرنے میں ہچکچاہٹ کو 'حیرت انگیز' قرار دیا ہے۔
افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے پس منظر میں ایک سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے رابطے کرنے میں ہچکچاہٹ کو 'حیرت انگیز' قرار دیا ہے۔


ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ 'ہم کس طرح پاکستان سے تعاون کئے بغیر افغانستان سے اپنا انخلا مؤثر ہونے کی توقع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ واضح طور پر بائیڈن حکومت سمجھتی ہے کہ افغانستان میں ہمارے پیچھے مسائل ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی افغان پالیسیوں پراثر انداز ہونے والے تمام ریپبلکن قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ بائیڈن حکومت کے'تمام افواج کے انخلا اور پاکستان کے ساتھ رابطے میں نہ رہنے کا فیصلہ ایک بڑی تباہی بن رہا ہے، جو عراق میں کی گئی غلطی سے بھی زیادہ بری ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پاکستانی رہنماؤں سے رابطے کرنے میں ہچکچاہٹ امریکی ٹیلی ویژن کو دیئے گئے وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو میں اس وقت اجاگر ہوئی جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا جب سے جوبائیڈن نے منصب سنبھالا، ان کی ان سے بات چیت ہوئی، جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ نہیں میری بات نہیں ہوئی۔ سوال کیا گیا کہ اس کی کیا وجہ ہے جس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ 'ان کے پاس جب ٹائم ہو وہ مجھ سے بات کرسکتے ہیں، لیکن اس وقت واضح طور پر ان کی ترجیحات دوسری ہیں'۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 23, 2021 02:26 PM IST