உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    US President:جوبائیڈن نے خطاب میں کہا-مجھے کینسر، وہائٹ ہاوس نے دی صفائی-عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہوچکے ہیں ٹھیک

    ’مجھے کینسر ہے‘ جو بائیڈن کے بیان پر وہائٹ کو دینی پڑی صفائی۔

    ’مجھے کینسر ہے‘ جو بائیڈن کے بیان پر وہائٹ کو دینی پڑی صفائی۔

    US President: امریکہ کے صدر جو بائیڈن اکثر اپنی تقاریر میں غلطیاں کرتے رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے وہ ٹی وی پر تقریر کر رہے تھے۔ ٹیلی پرامپٹر دیکھتے ہوئے انہوں نے غلطی سے اس پر دی گئی ہدایات کو تقریر کا حصہ سمجھ کر پڑھ لیا تھا۔

    • Share this:
      US President: صدر جو بائیڈن نے ایک تقریر میں دعویٰ کیا کہ انہیں کینسر ہے۔ جب اس کا ویڈیو وائرل ہوا تو لوگ حیران رہ گئے۔ اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدر پچھلے دنوں کی بات کر رہے تھے۔ عہدہ سنبھالنے سے پہلے انہیں میلےنوما جلد کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کا علاج ہوچکا ہے۔

      بائیڈن میساچوسٹس کے سمرسیٹ میں کوئلے کے ایک سابق پلانٹ کے دورے کے موقع پر تقریر کر رہے تھے۔ آئل ریفائنریوں سے اخراج کے مضر اثرات پر بات کرتے ہوئے، بائیڈن نے ڈیلاویئر میں اپنے بچپن کے گھر کو یاد کیا اور کہا کہ وہ اور ان کے ساتھ پلے بڑھے بہت سے لوگوں کو آج کینسر ہے۔

      جو بائیڈن نے کہا، ’میری والدہ چلنے کے بجائے ہمیں کار سے لے جاتی تھیں۔ گاڑی کی کھڑکی پر پھنسے ہوئے تیل کو نکالنے کے لیے ہمیں وائپرز کا استعمال کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اور میرے ساتھ پروان چڑھنے والے بہت سے لوگوں کو آج کینسر ہے، اور ایک طویل عرصے تک ڈیلاویئر کے کینسر کی شرح ملک میں سب سے زیادہ تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      UK Inflation:گلوبل مہنگائی کا بڑھا خطرہ،اب برٹین میں مہنگائی 40سالوں کی اونچی سطح پر پہنچی

      یہ بھی پڑھیں:
      سری لنکا میں6مرتبہ وزیراعظم رہے رانیل وکرماسنگھے بنے صدر،احتجاج کے درمیان دلایا گیا حلف

      بائیڈن سے پہلے بھی ہوچکی ہیں غلطیاں
      امریکہ کے صدر جو بائیڈن اکثر اپنی تقاریر میں غلطیاں کرتے رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے وہ ٹی وی پر تقریر کر رہے تھے۔ ٹیلی پرامپٹر دیکھتے ہوئے انہوں نے غلطی سے اس پر دی گئی ہدایات کو تقریر کا حصہ سمجھ کر پڑھ لیا تھا۔ ٹویٹر پر شیئر کی گئی ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا - اینڈ آف کوٹ، ریپیٹ دی لائن۔ یعنی اقتباس کا اختتام، لائن کو دہرائیں۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: