اپنا ضلع منتخب کریں۔

    بائیڈن نے ویزا کے لیے انتظار کا وقت کم کرنے پر دیا زور، وزارت خارجہ سے میمورنڈم پر غور کرنے کی درخواست کی

    امریکی صدر جو بائیڈن (فائل فوٹو)

    امریکی صدر جو بائیڈن (فائل فوٹو)

    امریکہ اور بیرون ملک ایشیائی امریکن اینڈ پیسیفک آئی لینڈر (اے اے پی آئی) کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ طلباء، کاروباریوں اور زائرین کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Washington
    • Share this:
      امریکی صدارتی کمیشن نے صدر جوبائیڈن کو اہم بیک لاگ والے ہندوستان جیسے ممالک کے لیے ویزا جاری کرنے کے انتظار کے وقت کو کم کرنے کی سفارش کی ہے۔ صدارتی کمیشن نے بیک لاگ والے ممالک کے لیے ویزا جاری کرنے کی انتظار کی مدت کو زیادہ سے زیادہ دو سے چار ہفتہ تک کم کرنے کے لیے محکمہ خارجہ کو ایک میمو جاری کرنے پر غور کرنے کی سفارش کی ہے۔

      ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر ممالک سمیت دیگر ایشیائی ممالک اور بحرالکاہل کے جزائر کے سفارتخانوں کے پاس غیر تارکین وطن کے ویزے، وزیٹر ویزے (B1/B2)، اسٹوڈنٹ ویزا (F1/F2) اور عارضی ورکر ویزا (ایچ، ایل، او، پی کیو) جاری کرنے میں غیر معمولی طور پر طویل بیک لاگ ہیں۔ ہندوستان کے معاملے میں، یہ بیک لاگ اب 1,000 دن سے زیادہ گزر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ اور بیرون ملک ایشیائی امریکن اینڈ پیسیفک آئی لینڈر (اے اے پی آئی) کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ طلباء، کاروباریوں اور زائرین کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ایلون مسک دنیا کے سب سے امیر شخص کا خطاب کھونے کے دہانے پر، اس ارب پتی نے دی ٹکر

      یہ بھی پڑھیں:
      افغانستان پر قبضے کے بعد پہلی مرتبہ طالبان نے دی سرعام پھانسی، قتل کے ملزم کو سزا

      امریکی سفارت خانے نے پہلے کہا تھا کہ مارچ 2020 سے آپریشنز میں عملے کی کمی اور کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے غیر تارکین وطن ویزا کے درخواست دہندگان کے انتظار کے اوقات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ہفتے ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران، صدر کے مشاورتی کمیشن برائے ایشیائی امریکیوں، ہوائی جزیرے کے مقامی باشندوں، اور بحر الکاہل کے جزیروں کے باشندوں نے عالمی سطح پر بالخصوص ہندوستان، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں امریکی سفارت خانوں کی جانب سے ویزا جاری کرنے پر کے وقت میں بڑھتی دیری کو کم کرنے کے لیے وہائٹ ہاوس سے سفارشیں کی تھیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: