உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine Crisis:بائیڈن نے کی امریکی شہریوں سے یوکرین چھوڑنے کی اپیل، کہا-بگڑ سکتے ہیں حالات

    Ukraine Crisis: صدر نے کہا کہ یہ بہت مختلف صورتحال ہے، حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی امریکہ یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بائیڈن ماسکو کو ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں۔

    Ukraine Crisis: صدر نے کہا کہ یہ بہت مختلف صورتحال ہے، حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی امریکہ یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بائیڈن ماسکو کو ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں۔

    Ukraine Crisis: صدر نے کہا کہ یہ بہت مختلف صورتحال ہے، حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی امریکہ یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بائیڈن ماسکو کو ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں۔

    • Share this:
      واشنگٹن/کیف:امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین میں مقیم امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد یوکرین چھوڑ دیں۔ صدر نے کہا کہ یہ بہت مختلف صورتحال ہے، حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی امریکہ یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بائیڈن ماسکو کو ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں پہلے بھی خبردار کر چکے ہیں۔ امریکہ نے نیٹو اتحادیوں کی مدد کے لیے اضافی فوجی تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

      بائیڈن نے امریکی شہریوں کو ماسکو کے سات بڑے تنازعات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ NBC کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا، ’امریکی شہریوں کو نکل جانا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا، ’ہمیں دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔ یہ بالکل مختلف صورتحال ہے اور صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔امریکہ سمیت کئی ممالک نے یوکرین پر حملے کی صورت میں روس پر پابندیاں عائد کرنے کا انتباہ دیا ہے۔

      یوکرین بحران کے درمیان کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ آج
      کواڈ ممالک کے وزرائے خارجہ یوکرین، افغانستان کے بحران اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر تشویش کے درمیان آج جمعہ کو ملبورن میں ملاقات کریں گے۔ آسٹریلیا کے وزیر خارجہ مورس پائنے نے بات چیت سے ایک دن قبل جمعرات کو کہا تھا کہ اجلاس میں انسداد کورونا وائرس انفیکشن ویکسین کی تقسیم، انسداد دہشت گردی، سمندری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی میں تعاون پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

      پائنے نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ انڈو پیسیفک کے تمام ممالک اپنے اسٹریٹجک فیصلے خود کرنے کے قابل ہوں۔ ان کے اس بیان کو خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پائنے کے زیر اہتمام ہونے والی اس میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن، جاپانی وزیر خارجہ حیاشی یوشی ماسا شرکت کریں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: