ہوم » نیوز » عالمی منظر

صحافیوں کی کتاب میں سنسنی خیز انکشاف: ٹرمپ نے مہاجرین کو ٹانگ پر گولی مارنے کا حکم دیا تھا

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مہاجرین کو جنوبی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لئے سخت رویہ اپنانے کو کہا جس میں سرحدی باڑ میں کرنٹ چھوڑنے، چبھنے والی خاردار تار لگانے جو انسان کا گوشت تک کاٹ دے اور پانی اور سانپوں سے بھرے گڑھے بنانے کی بات شامل ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 03, 2019 02:10 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
صحافیوں کی کتاب میں سنسنی خیز انکشاف: ٹرمپ نے مہاجرین کو ٹانگ پر گولی مارنے کا حکم دیا تھا
ڈونلڈ ٹرمپ: فائل فوٹو

واشنگٹن۔ ’ نیویارک ٹائمز ‘کے صحافیوں کی جانب سے شائع ہونے والی کتاب میں سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن کو ٹانگ پر گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مہاجرین کو جنوبی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لئے سخت رویہ اپنانے کو کہا جس میں سرحدی باڑ میں کرنٹ چھوڑنے، چبھنے والی خاردار تار لگانے جو انسان کا گوشت تک کاٹ دے اور پانی اور سانپوں سے بھرے گڑھے بنانے کی بات شامل ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی میکسیکو سے ملنے والی سرحد پر دیوار تعمیر کرنا ڈونلڈ ٹرمپ کا مرکزی پالیسی ہدف تھا۔ دیوار کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے جس کے لیے پنٹاگن نے فوجی فنڈز میں سے اس کی تعمیر کیلئے 3.6 ارب ڈالر مختص کئےہیں۔ صحافی مائیکل شیئر اور جولی ڈیوس کی جانب سے ’سرحدی جنگ: ٹرمپ کے تارکین وطن پر ظلم کے اندر کی کہانی‘ کے عنوان سے شائع کتاب انٹرویوز پر مبنی ہے جس میں درجنوں حکام کا بغیر نام ظاہر کئے انٹرویو شامل کیا گیا ہے اور اسے نیویارک ٹائمز نے شائع کیا ہے۔ اس میں مارچ 2019 کا ذکر کیا گیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحد سے تارکین وطن کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے احکامات دیئے تھے۔ کتاب کے اقتباس کے مطابق امریکی صدر نے نجی سطح پر اپنے ساتھیوں کو تجویز دی تھی کہ سپاہی پیر پر گولی ماریں تاہم انہیں بتایا گیا کہ یہ غیر قانونی ہوگا۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عوامی سطح پر بھی یہ تجویز دے چکے ہیں کہ سپاہی پتھر پھینکنے والے تارکین وطن پر گولی چلائیں۔ کتاب کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی سنگین اقدامات اٹھانے کی تجاویز بھی دیں۔ اقتباس میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی کہ امریکہ - میکسیکو سرحد پر دوپہر کے بعد سے مکمل شٹ ڈاؤن کیا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھی ان کے سرحد کو بند کرنے کے خیال کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے تاہم بعد ازاں امریکی صدر نے اپنے کئی ساتھیوں کو عہدہ سے ہٹا دیا تھا جن کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ وہ ان کے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان افراد میں ہوم لینڈ سیکورٹی کے سکریٹری کرسٹجین نیلسن بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر نے صحافیوں کے انکشافات کو ’جھوٹی خبر‘ قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’میں سرحدی سیکورٹی کے حوالہ سے سخت ہوں گا، مگر اتنا بھی سخت نہیں‘‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان 2016 میں اپنی صدارتی مہم کے دوران ہی کردیا تھا۔


یاد رہے کہ دسمبر 2018 میں کانگریس نے امریکی صدر کے مطالبہ پر دیوار کی تعمیر کے لئے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے سے انکار کردیا تھا جس کی پاداش میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی اداروں کے لئے پیش کئے جانے والے بجٹ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بجٹ جاری نہ ہونے کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ایجنٹس، ایئر ٹریفک کنٹرولر اور میوزیم کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھے۔ بعد ازاں امریکی صدر نے جنوری کے آخر میں شٹ ڈاؤن عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ وفاقی حکومت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سمجھوتہ پر اتفاق ہوگیا ہے۔
کانگریس کی جانب سے حکومت کو دیوار کی تعمیر کے لیے ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے فنڈز استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مقصد کے لئے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا تھا۔ فروری کے مہینے میں امریکی صدر نے کانگریس کی جانب سے فنڈز منظور نہ کیے جانے پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔ جون میں انہوں نے میکسیکو سے 90 روزہ معاہدہ کیا جس کے تحت سرحد پار کرنے والے تارکین وطن کا بہاؤ کم کیا جانا تھا۔ اس معاہدہ میں باہمی تعاون اور میکسیکو کا ملک بھر میں فوج کا تعینات کیا جانا، جیسے کئی اقدامات شامل تھے۔
گزشتہ ماہ میکسیکو کا کہنا تھا کہ اس نے کئی غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکا ہے جس کے بعد سرحد پار کرنے والوں کی تعداد مئی کے مقابلے میں کم ہوکر 56 فیصد ہوگئی ہے۔ موجودہ مالی سال میں اب تک 8 لاکھ افراد کو جنوبی امریکی سرحد پر گرفتار کیا جاچکا ہے، یہ تعداد 2018 کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ ان میں سے کئی افراد تشدد یا غربت کی وجہ سے ملک چھوڑ کر جانا چاہتے تھے۔
First published: Oct 03, 2019 02:07 PM IST