உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    US Presidential Elections 2020 : معذور افراد کی ووٹ دینے میں مدد کرنے والے امریکی قوانین

    معذور افراد کی ووٹ دینے میں مدد کرنے والے امریکی قوانین ۔ علامتی تصویر ۔

    معذور افراد کی ووٹ دینے میں مدد کرنے والے امریکی قوانین ۔ علامتی تصویر ۔

    جب امریکی اپنے نمائندے چنتے ہیں تو معذوریوں کے حامل امریکیوں کے 1990 کے تاریخی قانون (اے ڈی اے) کے تحت ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں میں معذور ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

    • Share this:
      جب امریکی اپنے نمائندے چنتے ہیں تو معذوریوں کے حامل امریکیوں کے 1990 کے تاریخی قانون (اے ڈی اے) کے تحت ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں میں معذور ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ 2011 میں ریٹائر ہونے سے قبل امریکی محکمہ انصاف کے معذوروں کے حقوق کے سیکشن کے سربراہ رہ چکے جان ووڈیچ کہتے ہیں ۔ “انتخاب منعقد کروانے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پولنگ سٹیشن معذور ووٹروں کے لیے قابل رسا ہوں۔”

      اے ڈی اے نے 2002 کے ہیلپ امریکہ ووٹ ایکٹ (امریکہ کی ووٹ ڈالنے میں مدد کریں) نامی قانون کے لیے راہ ہموار کی۔ اس قانون کے تحت انتخاب منعقد کرانے کے ذمہ دار حکام کے لیے یہ لازمی قرار پایا کہ وہ ہر پولنگ سٹیشن پر کم از کم ایک مشین ایسی نصب کریں جسے نابینا اور کمزور بینائی والے ووٹر آزادانہ اور رازدارانہ طریقے سے استعمال کر سکیں۔ یہ مشین مناسب طریقے سے نصب کی جانی چاہیے۔ 1965 کے ووٹ دینے کے حقوق کے تاریخی قانون کے تحت انتخابی عملے کو معذور ووٹروں کو مشین تک لے جانے اور اگر وہ کہیں تو مشین کو استعمال کرنے میں مدد کرنے کے لیے موجود رہنا ہوتا ہے۔

      ووڈیچ نے بتایا کہ 2002 کے اس قانون سے پہلے ہی اے ڈی اے کے تحت پولنگ کے عملے کے لیے سماعتی مسائل سے دوچار ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے متعلق ہدایات دینا ضروری قرار دیا جا چکا تھا۔ ووڈیچ کہتے ہیں کہ اے ڈی اے کی دفعات کے تحت پولنگ کے عملے کے لیے ضروری ہے کو وہ بوقت ضرورت، جسمانی یا سمجھ بوجھ کی معذوریوں کے حامل ووٹروں کی مدد کریں، چاہے اس کا مطلب بیلٹ پیپر پر (متعلقہ فرد کی پسند کے امیدوار کے نام پر) نشان لگانے میں مدد کرنے سے ہی کیوں نہ ہو۔

      وہیل چیئر استعمال کرنے والے ووٹروں کے لیے ووٹنگ مشین یا ‘ بیلٹ ریڈر’ کی سکرین کی اونچائی کا اتنی سطح تک ہونا لازمی ہے جہاں تک ووٹر آسانی سے پہنچ سکیں۔

      جب ایبونی فری مین 2015 میں ووٹ دینے گئیں تو اُن کا پولنگ سٹیشن پر کام کرنے والے ایک “انتہائی مہربان فرد” سے واسطہ پڑا جس نے فری مین سے پوچھا کہ آیا انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ وہ جوڑوں کے درد اور تھکاوٹ کی بیماری “فائبرومیالجیا اور سیسٹیمک لیوپس ایریٹیمیٹوسس” کا شکار ہیں۔ اگرچہ فری مین نے مدد کی پیشکش کو سراہا تاہم انہوں نے اپنا ووٹ کسی سے مدد لیے بغیر خود ہی ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

      فری مین بتاتی ہیں“اپنی معذوری کی وجہ سے یہ یقینی بنانے کے لیے میں نے تھوڑا سا زیادہ وقت لیا (کیونکہ میں چاہتی تھی) کہ (ووٹ ڈالنے کے) سارے عمل کو درست طریقے سے مکمل کیا جائے۔”

      بہتر رسائی ووٹروں کی تعداد کے اضافے کا باعث

      اے ڈی اے کے تحت داخلی راستوں، مخصوص پارکنگ کی جگہوں اور راہداریوں سمیت پولنگ سٹیشنوں کے تمام مقامات کا قابل رسا ہونا لازمی ہے۔ انتخابی اہلکار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ نقل و حرکت کے مسائل سے دوچار معذور افراد آسانی سے پولنگ سٹیشن میں داخل ہوسکیں اور باہر نکل سکیں۔ نیز، انتخابی اہلکاروں کا یہ یقینی بنانا بھی فرض ہے کہ معذور افراد کی مدد کرنے والے جانوروں کو بھی پولنگ سٹیشن کے اندر ووٹ ڈالنے کی جگہ پر جانے کی اجازت ہو۔

      بعض ایسی صورتوں میں جب اہلکار قابل رسا پولنگ سٹیشنوں یا عارضی طور پر قابل رسا مقامات کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں تو وہ سڑک کنارے ووٹ ڈالنے کی مشین لگانے جیسا متبادل طریقے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اگرچہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، تاہم یہ سہولت انتخاب والے دن بذات خود ووٹ ڈالنے کو ترجیح دینے والے افراد کی پسند کی جگہ نہ لے سکتی۔

      پولنگ سٹیشنوں تک جانے والے راستوں کا بھی قابل رسا ہونا ضروری ہے۔ نابینا ووٹروں کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ راہداریوں یا فٹ پاتھوں پر یا ان کے ساتھ لگائے گئے انتخابی یا دیگر سائن بورڈوں یا درختوں کی لٹکتی ہوئی شاخوں جیسی کوئی رکاوٹ راستے میں موجود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کمزور بینائی والے یا وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد ان رکاوٹوں سے نہ ٹکرائیں۔

      ووٹ ڈالنے کی قابل رسا سہولتوں میں مدد کی غرض سے محکمہ انصاف نے پولنگ سٹیشنوں کے لیے اے ڈی اے کی ایک پڑتالی فہرست تیار کرنے کے ساتھ ساتھ پولنگ سٹیشنوں پر اے ڈی اے کے رسائی کے سلسلے میں پیش آنے والے پانچ عام مسائل کے حل بھی تجویز کیے ہیں۔ اس سے انتخابی حکام کو اس بات کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آیا پولنگ سٹیشن اور اس کے اردگرد معذور افراد کے لیے درکار تمام سہولتیں موجود ہیں یا عارضی حل استعمال کرکے پولنگ سٹیشنوں کو قابل رسا بنایا جاسکتا ہے۔

      اگر پولنگ سٹیشنوں تک رسائی موجود نہ ہو تو محکمہ انصاف انتخابی انتظامات کے ذمہ دار سرکاری اداروں کے خلاف (اے ڈی اے کے قانون) پر عمل کروانے کی کارروائی کا آغاز کرسکتا ہے۔ ایسی صورتوں میں محکمہ انصاف کسی ایسے تصفیے تک پہنچنے کے لیے مقامی حکام سے بات چیت کرتا ہے جو قانون کے مطابق ہو۔

      انتخابی نظاموں کے لیے بین الاقوامی فاؤنڈیشن میں شمولیت سے متعلق سینئرعالمی مشیر ورجینیا اٹکنسن کا کہنا ہے “یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی یا دوسرے ممالک میں دیکھنے میں نہیں آتی۔”

      اے ڈی اے کے تحت ضروری قرار پانے والی تبدیلیوں اور ‘ ہیلپ امریکہ ووٹ ایکٹ’ (امریکہ کی ووٹ دینے میں مدد کریں) نامی قانون کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی مردم شماری کے مطابق 2016 کے صدارتی انتخابات میں 16 ملین سے زیادہ معذور شہریوں نے ووٹ ڈالے جو کہ امریکی مردم شماری ہی کے مطابق 2012 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں 15 اعشاریہ 6 ملین معذور شہریوں کی ووٹ ڈالنے کی تعداد میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

      ووڈیچ کا کہنا ہے “ووٹ ڈالنے کا حق، ہماری حکومت میں حصہ لینے کا حق، امریکہ کا ایک اساسی اصول ہے۔ اس سے زیادہ اہم کوئی اور حق ہو نہیں سکتا ہے۔”

      شیئر امریکہ ڈاٹ کام

      بشکریہ: اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ ، نئی دہلی
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: