உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ نے چھوڑ دیا سعودی عرب کا ساتھ، ہٹا دیا میزائل دفاعی نظام

    امریکہ نے چھوڑ دیا سعودی عرب کا ساتھ، ہٹا دیا میزائل دفاعی نظام

    امریکہ نے چھوڑ دیا سعودی عرب کا ساتھ، ہٹا دیا میزائل دفاعی نظام

    ریاض سے باہر شہزادہ سلطان ایئربیس سے سیکورٹی نظام کو ہٹانے کا یہ حادثہ ایسے وقت میں ہوا، جب امریکی خلیجی عرب اتحادی افغانستان سے امریکی فوجیوں کی افراتفری والے ماحول میں واپسی دیکھی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      دبئی: امریکہ نے حال کے ہفتوں میں سعودی عرب سے جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم اور پیٹریاٹ بیٹری کو ہٹا لیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک یمن کے حوثی باغیوں کے فضائی حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ دی ایسوسی ایٹیڈ پریس کے ذریعہ یہ معلومات سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے حاصل ہوئیں۔ واضح رہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے 20 سال کی طویل جدوجہد کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کو واپس بلا لیا ہے۔

      ریاض سے باہر شہزادہ سلطان ایئربیس سے سیکورٹی نظام کو ہٹانے کا یہ حادثہ ایسے وقت میں ہوا، جب امریکی خلیجی عرب اتحادی افغانستان سے امریکی فوجیوں کی افراتفری والے ماحول میں واپسی دیکھی ہے۔ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے ہزاروں امریکی فوجی جزیرہ نما عرب میں موجود ہیں۔ جزیرہ عرب ممالک کو امریکہ کے مستقبل سے متعلق تشویش ستا رہی ہے کیونکہ اس کی فوج ایشیا میں بڑھتے فوجی خطرے کو مانتی ہیں اور اس کے لئے اسے میزائل دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔

      وہیں عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدہ کے ختم ہونے کے بعد اس کو لے کر وینا میں ہو رہی بات چیت پر بھی بریک لگ گیا ہے، جس سے علاقے میں آگے جدوجہد کے خطرے بڑھ گئے ہیں۔ رائس یونیورسٹی کے جیمس اے بیکر III انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی کے ایک ریسرچ اسکالر کرسٹن الریسین نے کہا کہ خیالات بہت اہمیت رکھتے ہیں، چاہے وہ حقیقی ہوں یا نہیں اور بھی اس علاقے میں فیصلے لینے والے افسران میں یہ ایک مفروضہ ہے کہ امریکہ اس علاقے کے تئیں اب اتنا پابند عہد نہیں ہے، جتنا وہ ہوا کرتا تھا۔

      اگست کے آخر میں اے پی نے جو سیٹلائٹ کی تصویر دیکھی، اس میں یہ نظر آرہا تھا کہ کچھ بیٹری علاقے سے ہٹائی گئی ہیں۔ حالانکہ سرگرمی اور گاڑیاں وہاں دیکھے گئے تھے۔ وہیں جمعہ کو پلینیٹ لیب سیٹلائٹ کی تصویر میں یہ نظر آیا کہ اس مقام پر بیٹری پیڈ خالی ہیں اور کسی طرح کی سرگرمی بھی نہیں ہے۔ دفاعی نظام کو ایسے وقت میں ہٹایا گیا ہے جب حال میں سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے میں 8 لوگ زخمی ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے مارچ، 2015 سے ہی حوثی باغیوں کے خاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: