உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ نے یوکرین بھیجا 300 جیولن میزائلوں کا ذخیرہ، جانیے دشمن کے خیمے میں کیسے مچائے گا تباہی

    روس سے ممکنہ جنگ کے اندیشے کے درمیان، امریکہ نے یوکرین کو دی جیولین میزائلوں کی کھیپ

    روس سے ممکنہ جنگ کے اندیشے کے درمیان، امریکہ نے یوکرین کو دی جیولین میزائلوں کی کھیپ

    جیولین ایک اینٹی ٹینک میزائل ہے جو امریکہ میں بنائی گئی ہے۔ یہ میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے انفراریڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ اس میزائل کو ٹینکوں کے خلاف سب سے موثر سمجھا جاتا ہے۔ جیولین میزائل عمارتوں اور دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن: روس اور یوکرین میں جنگ (Russia Ukraine War) کے خطرے کو دیکھتے ہوئے امریکہ ایکشن موڈ میں ہے۔ امریکہ (America) نے منگل کو 300 اینٹی ٹینک جیولن میزائلوں (Javelin Missile) کو یوکرین بھیجا ہے۔ یہ میائلیں مین پورٹیبل ہیں، جنہیں یوکرینی فوجی کندھوں پر رکھ کر فائر کرسکتے ہیں۔ جیولن میزائلوں کو آرمڈ وہیکل، ٹینک اور بنکروں کو اڑانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

      جنگ کی صورت میں یہ میزائل روسی فوج کے لیے بڑی مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ تاہم روس نے اپنے ٹینکوں پر ایکسپلوزو ری ایکٹو آرمر نصب کر رکھا ہے جو دشمن کے میزائلوں کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے ٹوئٹ کر کے بتایا کہ آج رات صدر جوبائیڈن سے منظور شدہ 200 ملین ڈالر کی تیسری کھیپ کیوو پہنچ گئی ہے۔ ہم یوکرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرتے رہیں گے۔

      50 ملیں ڈالر ہے قیمت
      تیسری کھیپ میں 70 ٹن فوجی امدادی مواد شامل ہے جس میں 300 جیولن میزائل بھی شامل ہیں۔ ان 300 جیولن میزائلوں کی قیمت 50 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اس کھیپ میں گرینیڈ لانچرز کے علاوہ گولہ بارود اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔ کئی یورپی ممالک پہلے ہی یوکرین کو بھاری مقدار میں ہتھیار دے چکے ہیں۔

      امریکہ میں بنی ہوئی میزائل ہے جیولین
      جیولین ایک اینٹی ٹینک میزائل ہے جو امریکہ میں بنائی گئی ہے۔ یہ میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے انفراریڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ اس میزائل کو ٹینکوں کے خلاف سب سے موثر سمجھا جاتا ہے۔ جیولین میزائل عمارتوں اور دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ جیولین کے علاوہ امریکی اسٹرنگر میزائل بھی یوکرین کو دیے گئے ہیں۔ یہ میزائل نچلی پرواز کرنے والے ڈرونز اور ہوا میں اڑنے والے ہیلی کاپٹروں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسٹرنگر میزائل کو کندھے پر رکھ کر بھی آسانی سے فائر کیا جا سکتا ہے۔

      1996 سے استعمال کررہا ہے امریکہ
      امریکہ 1996 سے جیولین میزائل استعمال کر رہا ہے۔ امریکی فوج اس میزائل کو افغانستان جنگ، عراق جنگ، شام کی جنگ اور لیبیا کی جنگ میں استعمال کر چکی ہے۔ یہ میزائل اپنے انفراریڈ گائیڈنس سسٹم کے ساتھ دشمن کا پیچھا کرتی ہے۔ اس سے فوجی کو میزائل فائر کرنے کے بعد چھپنے کا وقت ملتا ہے۔ امریکی فوج جنوری 2019 تک 5000 سے زائد جیولین میزائل فائر کرچکی ہے۔ اس کی مؤثر رینج 2500 میٹر تک بتائی جاتی ہے۔ اس کے بعد میزائل کشش ثقل کی وجہ سے زمین کی طرف گرنے لگتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: