உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس کے خلاف امریکہ کا سخت قدم- روسی سینٹرل بینک پر پابندی کے بعد بیلا روس کے سفارت خانہ کو بند کردیا

    روس کے خلاف امریکہ کا سخت قدم- بیلا روس کے سفارت خانہ کو بھی بند کردیا

    روس کے خلاف امریکہ کا سخت قدم- بیلا روس کے سفارت خانہ کو بھی بند کردیا

    یوکرین پر حملے کے خلاف پوری دنیا کے تمام روس پر سخت پابندیاں نافذ کر رہے ہیں۔ اس درمیان پیر کو امریکہ نے بھی پیر کو روس پر کئی پابندیاں عائد کردیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے روس کے مرکزی بینک اور سرکاری سرمایہ فنڈ پر نئے پابندی لگائی۔

    • Share this:
      واشنگٹن: یوکرین پر حملے کے خلاف پوری دنیا کے تمام ممالک روس پر سخت پابندیاں نافذ کر رہے ہیں۔ اس درمیان پیر کو امریکہ نے بھی پیر کو روس پر کئی پابندیاں عائد کردیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے روس کے مرکزی بینک اور سرکاری سرمایہ فنڈ پر نئے پابندی لگائی۔ ایک سینئر افسر نے نامہ نگاروں سے کہا کہ یہ امریکی محکمہ خزانہ نے روس کی معیشت کو لے کر اٹھایا گیا اہم قدم ہے۔

      روسی سینٹرل بینک کی پابندی کے ساتھ ہی امریکہ نے بیلا روس میں واقع اپنے سفارت خانہ کو بھی بند کردیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ یوکرین میں جنگ کی وجہ سے روس میں امریکی سفارت خانہ کے غیر ضروری ملازمین کو واپس آنے کی اجازت دی ہے۔

      سفارت خانہ کے سفارت کاروں کو وہاں سے جانے کو کہا
      پیر کے روز ایک بیان میں وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے منسک میں سفارت خانہ کی کارروائیاں معطل کرنے اور ماسکو سے سفارت خانہ کے اہلکاروں کی روانگی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ اقدامات ان سیکورٹی مسائل کی وجہ سے اٹھائے ہیں، جو یوکرین میں روسی فوجی دستوں کے بلاجواز حملے کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔

      کئی ممالک بینک آف روس کو بنا رہے ہیں نشانہ
      مرکزی بینک پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی، جاپان، یورپی یونین اور دیگر ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر پابندیوں کے ذریعہ روس کے مرکزی بینک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ جینیٹ ییلن نے کہا کہ "ہم نے آج جو قابل ذکر قدم اٹھایا ہے، اس سے روس کی اپنی سرگرمیوں کے لیے اثاثوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔"

      محکمہ خزانہ کے مطابق اس اقدام سے روس کا مرکزی بینک امریکہ یا کسی امریکی ادارے سے کوئی فنڈ اکٹھا نہیں کر سکے گا۔ جو بائیڈن انتظامیہ کے مطابق اس اقدام سے روس کی اربوں ڈالر کی فنڈنگ ​​پر منفی اثر پڑے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: