உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine Crisis: ’امریکہ نے جیو پولیٹیکل گیمز کے لیے یوکرین کاکیااستعمال‘

    عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    ایک ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابوشکن نے یہ بھی کہا کہ یوکرائنی حکام کی جانب سے نسل کشی کو روکنے کے لیے الگ الگ علاقوں کی تسلیم ایک طویل عرصے سے زیر التوا مسئلہ ہے۔

    • Share this:
      روس اور یوکرین تنازعہ (Russia-Ukraine Crisis) گرم ہے۔ ہندوستان میں روسی سفارت خانے کے انچارج ڈی افیئر رومن بابوشکن (Roman Babushkin) نے بدھ کے روز جیو پولیٹیکل گیمز کے لیے یوکرین کو استعمال کرنے کے لیے امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ روس کو یہ توقع نہیں تھی کہ غیر مستحکم صورتحال میں ہندوستان شراکت داروں کا انتخاب کرے گا۔

      ایک ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابوشکن نے یہ بھی کہا کہ یوکرائنی حکام کی جانب سے نسل کشی کو روکنے کے لیے الگ الگ علاقوں کی تسلیم ایک طویل عرصے سے زیر التوا مسئلہ ہے۔ یہ بیان روس کی جانب سے یوکرین کے الگ ہونے والے علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک (Donetsk and Luhansk) کو آزاد اداروں کے طور پر تسلیم کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس پر عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس بحران کے بارے میں روس کے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے بابوشکن نے یوکرین سمیت سوویت یونین کے بعد کے تمام ممالک کے اندرونی معاملات میں امریکہ پر داخلی اثر و رسوخ کا الزام لگایا۔

      انہوں نے کہا کہ مغرب نے یوکرین کو جیو پولیٹیکل میں روس کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس نے نیٹو کی عدم توسیع کے معاہدوں کی خلاف ورزی، یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی، اس کی عسکری سرگرمیوں میں تیزی لائی اور نیٹو کی سرحدوں کو روس کی سرحد کے قریب یوکرین تک منتقل کیا۔

      روسی سفارت کار نے الزام لگایا کہ امریکہ یوکرین میں حکومت کی تبدیلی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ امریکہ نے یوکرین میں حکومت کی تبدیلی کے لیے تقریباً 5 بلین ڈالر خرچ کیے، جن میں 2014 میں اقتدار میں لانا بھی شامل ہے۔

      انہوں نے کہا کہ کیف کبھی بھی منسک معاہدے کے نفاذ میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے توثیق کی گئی تھی۔

      امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے روس کے خلاف تازہ پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے بابوشکن نے کہا کہ ’’جہاں تک پابندیوں کا تعلق ہے تو ہم نے اسے اتنی بار سنا ہے کہ یہ بورنگ ہو چکی ہیں۔‘‘ یہ پابندیاں نہ صرف روس بلکہ منفی طور پر متاثر ہوں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یورپی معیشت اور عالمی استحکام سب کے لیے اہم ہے۔

      دریں اثناء امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات پر روسین کے موقف کو دہراتے ہوئے بابوشکن نے کہا کہ ہم اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: