உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    US کی نائب صدر کملا ہیرس کو کورونا، دو بوسٹر ڈوز کے باوجود کورونا سے متاثر

    امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس کورونا پازیٹیو

    امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس کورونا پازیٹیو

    Kamala Harris Test positive: امریکی نائب صدر کملا ہیرس (US Vice President Kamala Harris) کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہائٹ ہاوس نے اس سے متعلق جانکاری دی۔ وہائٹ ہاوس نے کہا کہ ریپڈ اور پی سی آر دونوں ٹسٹ میں ہیرس کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن: امریکی نائب صدر کملا ہیرس (US Vice President Kamala Harris) کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہائٹ ہاوس نے اس سے متعلق جانکاری دی۔ وہائٹ ہاوس نے کہا کہ ریپڈ اور پی سی آر دونوں ٹسٹ میں ہیرس کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ حالانکہ ان میں بیماری کی ’کوئی علامت‘ نہیں نظر آئی ہے۔

      کملا ہیرس اپنی رہائش گاہ پر کوارنٹائن میں رہیں گی، لیکن کام کرتی رہیں گی اور انفیکشن سے ٹھیک ہونے کے بعد ہی وہائٹ ہاوس لوٹیں گی۔ کملا ہیرس (57) نے کورونا ویکسین کی دونوں خوراک لگوا لی تھی اور اس کے بعد گزشتہ سال اکتوبر میں بوسٹر خوراک بھی لگوا لی تھی۔ اس کے باوجود انہیں کورونا انفیکشن سے جدوجہد کرنا پڑ رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں، یکم اپریل کو انہوں نے ایک اضافی بوسٹر خوراک لگوائی تھی۔

      مارچ میں شوہر کو ہوا تھا کورونا

      وہائٹ ہاوس نے کہا ہے کہ حال کے دنوں میں صدر جو بائیڈن اور خاتون اول جل بائیڈن نائب صدر کملا ہیرس کے ‘قریبی رابطے‘ میں نہیں آئے تھے۔ کملا ہیرس کے شوہر ڈاج امہاف (Doug Emhoff) اسی سال مارچ میں کورونا سے متاثر ہوئے تھے، لیکن کملا ہیرس اس وقت بھی نگیٹیو پائی گئی تھی۔ کچھ دن پہلے تک امریکی صدر جو بائیڈن کے بھی کورونا سے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا تھا، لیکن ان کی رپورٹ نگیٹیو آئی تھی۔

      وہائٹ ہاوس کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر کیٹ بیڈنگ فیلڈ نے اس ماہ کی شروعات میں بتایا تھا کہ ان کے کووڈ پازیٹیو ہونے کا خدشہ تھا، لیکن وہ ویکسینیٹیڈ ہیں اور بوسٹر ڈوز بھی لے چکے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں واشنگٹن کے کئی متاثر کن لوگ کورونا کی چپیٹ میں آچکے ہیں۔ مارچ میں وہائٹ ہاوس کی پریس سکریٹری جین پاسکی بھی کورونا کی چپیٹ میں آچکی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی کانگریس کی نینسی پیلوسی بھی کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: