ہوم » نیوز » عالمی منظر

دردناک! حاملہ خاتون کے ساتھ ایک خاتون نے ہی کیا خوفناک کام، پھر پیٹ پھاڑکر بچہ لیکر ہوئی فرار، اب ایسے دی جائے گی سزائے موت

Deat Penality in America: امریکہ کے پولیس محکمہ نے یہ بتایا کہ موت کی سزا پانے والی خاتون نے ایک حاملہ خاتون (Pregnant Women) کا قتل کر ڈالا تھا۔ مجرم خاتون اس واقعے کو انجام دینے کے بعد بھی نہیں رکی۔ اس نے خاتون کا پیٹ کاٹ (Slit Stomach And Ran away) کر اس کا بچہ نکال لیا اور فرار ہو گئی۔

  • Share this:
دردناک! حاملہ خاتون کے ساتھ ایک خاتون نے ہی کیا خوفناک کام، پھر پیٹ پھاڑکر بچہ لیکر ہوئی فرار، اب ایسے دی جائے گی سزائے موت
رسی سے گلا گھونٹ کر 8 ماہ کی حاملہ کی لی جان

امریکہ میں ایک خاتون کے قتل (Murder) کے جرم میں سزائے موت (Death Penality) دی جا رہی ہے۔ امریکہ کے پولیس محکمہ نے یہ بتایا کہ موت کی سزا پانے والی خاتون نے ایک حاملہ خاتون (Pregnant Women) کا قتل کر ڈالا تھا۔ مجرم خاتون اس واقعے کو انجام دینے کے بعد بھی نہیں رکی۔ اس نے خاتون کا پیٹ کاٹ (Slit Stomach And Ran away) کر اس کا بچہ نکال لیا اور فرار ہو گئی۔ خاتون پر لگے الزام ثابت ہو گئے ہیں اور اب اسے 8 دسمبر کو زہر کا انجیکشن دیکر سزائے موت دی جائے گی۔ امریکہ میں کسی بھی خاتون کو سزائے موت 67 سال بعد مل رہی ہے۔ امریکہ میں تقریبا بیس سال کی روک کے بعد تین ماہ پہلے ہی موت کی سزا پھر بحال ہوئی ہے۔


بچی اب 16 سال کی ہو چکی ہے والد کو سونپنے کا ہے حکم

مانٹو گومیری کی عمر تقریبا اب 52 سال ہو گئی ہے اور اسے انڈیانا کے جیل میں رکھا گیا ہے۔ یہیں پر اسے موت کی سزا دی جائے گی۔ بچی اب 16 سال کی ہو چکی ہے اور کورٹ نے اسے اس کے والد کو سوپنے کا حکم دیا ہے۔

رسی سے گلا گھونٹ کر 8 ماہ کی حاملہ کی لی جان

36 سالہ مانٹوگیمری نام کی خاتون سال 2004 میں کتا خریدنے کے بہانے 23 سالہ بابی اسٹینیٹ کے گھر پہنچ گئی۔ اس کے بعد مانٹوگیمری نے 8 مہینے کی حاملہ اسٹینیٹ کا رسی سے گلا گھونٹ دیا اور پھر اس کا پیٹ پھاڑ کر بچے کو لیکر فرار ہو گئی۔ پولیس نے مانٹو گومیری کو گرفتار کر لیا۔

کئی عدالتوں میں مجرم خاتون نے کی اپیل
پولیس کے ذریعے میوسوری کی ایک کورٹ میں مانٹوگومیری کو پیش کیا گیا جہاں انہوں نے اپنا جرم قبول کر لیا تھا۔ قتل کے چار سال بعد 2008 میں اسے اغوا اور قتل کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ مانٹوگومیری نے کئی فیڈرل کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ہر جگہ اس کی سزا کو برقرار رکھا گیا۔

غور طلب ہے کہ امریکہ میں 1953 میں آخری بار کسی خاتون کو سزائے موت دی گئی تھی۔ یہاں گزشتہ 67 سال میں کسی بھی خاتون کو موت کی سزا نہیں دی گئی ہے۔ ہندستان میں سزائے موت میں پھانسی ہوتی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 25, 2020 10:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading