உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Afghanistan کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے ازبکستان نہیں ہے تیار،خواتین کےلئے طالبان کا ایک اور فرمان!

    طالبان نے خواتین کے لئے جاری کیا نیا حکم۔

    طالبان نے خواتین کے لئے جاری کیا نیا حکم۔

    اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان خواتین پر مسلسل پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ خواتین کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کے پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ طالبان رہنماؤں کے مطابق خواتین کا گھر سے باہر کام کرنا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان میں طالبان کو اقتدار سنبھالے ایک سال ہو گیا ہے لیکن ابھی تک ہمسایہ ممالک اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ازبکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ازبک صدر کے خصوصی نمائندے عصمت اللہ ارگاشیف نے کہا کہ طالبان حکومت کے لیے اتنی جلدی بین الاقوامی شناخت حاصل کرنا مشکل ہے۔ ادھر افغانستان میں برسراقتدار طالبان نے ایک بار پھر اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔

      طالبان کی اصل ذہنیت ، خواتین کے لئے برقعہ کو قرار دیا لازمی
      خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے عوامی مقامات پر خواتین کے لیے برقعہ کو لازمی قرار دیا ہے۔ طالبان نے حال ہی میں خواتین کے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم اور کام کرنے والی خواتین پر پہلے ہی کئی پابندیاں لگا چکے ہیں۔ یہ نیا حکم نامہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ افغان خواتین کو اپنی آنکھوں کے علاوہ پورے جسم کو سر سے پاؤں تک ڈھانپ کر باہر نکلنا چاہیے۔

      پورا جسم ڈھانکنے کا حکم
      وزارتِ فضیلت تشہیر اور برائی کی روک تھام کے ترجمان نے حکم نامے کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی خاتون برقعہ نہیں پہنتی ہے تو اس کے والد یا کسی سرکاری ملازم کا قریبی رشتہ دار ملازمت سے ہاتھ دھو سکتا ہے اور جیل جا سکتا ہے۔ یہی نہیں طالبان حکومت نے بوڑھی خواتین کو بھی اپنی آنکھوں کے علاوہ پورا جسم ڈھانپنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل 1996 سے 2001 تک اپنے دور حکومت میں طالبان نے خواتین پر ایسی ہی سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Ukraineمیں لوٹی جارہی خواتین کی عزت، حاملہ ہوجانے کے خوف سے بانٹی جارہی Contraception Pill

      یہ بھی پڑھیں:
      coronavirus test کے نام پر خواتین کے سات کیا جارہا ہے ایسا برتاؤ، دیکھ کر رہ جائیں گے دنگ

      لڑکیوں کی تعلیم پر لگائی روک
      اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان خواتین پر مسلسل پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ خواتین کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کے پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ طالبان رہنماؤں کے مطابق خواتین کا گھر سے باہر کام کرنا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو دور سفر کرنے کے لیے مردوں کو ساتھ لے کر جانا پڑے گا۔ خواتین کے ڈرائیونگ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: