உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Free Press: الجزیرہ سے وابستہ سینئر صحافی کا اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل، جانیے تفصیل

    تصویر: الجزیرہ ٹوئٹر

    تصویر: الجزیرہ ٹوئٹر

    ذرائع کے مطابق 51 سالہ صحافی شیرین ابو عاقلۃ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج کے چھاپے سے متعلق کوریج کر رہی تھیں۔ اسی دوران اسرائیلی فورسز نے اچانک انھیں گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

    • Share this:
      فلسطینی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں الجزیرہ (Al Jazeera) سے وابستہ نہایت ہی تجربہ کار اور سینئر صحافی شیرین ابو عاقلۃ (Shireen Abu Akleh) کو جنین نامی علاقہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ 51 سالہ صحافی شیرین ابو عاقلۃ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج کے چھاپے سے متعلق کوریج کر رہی تھیں۔ اسی دوران اسرائیلی فورسز نے اچانک انھیں گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔

      ’بے رحمانہ قتل‘ کی مذمت:

      ایک بیان میں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک (Al Jazeera Media Network) نے اس بے رحمانہ قتل کی مذمت کی ہے۔ جس سے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ مذکورہ نیٹ ورک نے اس قتل کو گھناؤنا جرم قرار دیا، جس کے ذریعے میڈیا کو اپنے کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیلی حکومت اور قابض افواج کو مقتول ساتھی شیرین کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔



      الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کو ابو عاقلۃ کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور قتل کرنے کے لیے جوابدہ بنائیں اور اس سے اس قتل کے بارے میں کھل کر سوال کیا جائے۔



      مزید پڑھیں: UAE jobs: متحدہ عرب امارات میں unemployment insurance ہوگا متعارف، کسے اور کب ملے گا؟

      ’ریاست کی سرپرستی میں اسرائیلی دہشت گردی‘ کے خاتمے کا مطالبہ:

      قطر کے نائب وزیر خارجہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں الجزیرہ کی صحافی کے قتل کی مذمت کی۔ الجزیرہ کے منیجنگ ڈائریکٹر جائلز ٹرینڈل نے کہا کہ نیٹ ورک ابو عاقلۃ کے قتل سے حیران اور غمزدہ ہے۔ ٹرینڈل نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اسرائیل افواج کی جانب سے ایک سال قبل بھی اُس عمارت کو تہس نہس کردیا تھا، جس میں الجزیرہ کے دفاتر کے ساتھ ساتھ ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی سمیت دیگر میڈیا اداروں کے دفاتر موجود تھے۔ اس دوران غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے کے دوران بمباری کی گئی تھی۔

      مزید پڑھیں: Classes with News18: جدید تاریخ میں اب تک کی بدنام زمانہ جنگیں کونسی ہیں؟ جانیے تفصیلات

      انہوں نے ابو عاقلۃ کے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا سرگرمیوں کے تحت ہماری پوری دنیا میں ایک تاریخ رہی ہے لیکن اس طرح کے حملے راست طور پر صحافت اور آزاد صحافت پر حملے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: