உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی ایل پی لیڈر کی رہائی کو لیکر تشدد جاری، اسلام آباد سیل، انٹرنیٹ خدمات بھی بند

    فرانسیسی سفیر کو لیکر بڑھ گیا تنازعہ

    فرانسیسی سفیر کو لیکر بڑھ گیا تنازعہ

    ٹی ایل پی نے کٹھر پنتی لیڈر کی رہائی سمیت 4 مطالبات کو لیکر (TLP) نے اسلام آباد مارچ شروع کر دیا ہے۔ لبیک کے کارکن مرید کے کیمپ تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاں سے اسلام آباد محض 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان میں حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹی ایل پی نے کٹھر پنتی لیڈر کی رہائی سمیت 4 مطالبات کو لیکر (TLP) نے اسلام آباد مارچ شروع کر دیا ہے۔ لبیک کے کارکن مرید کے کیمپ تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاں سے اسلام آباد محض 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ چنانچہ اسلام آباد کو ہر طرف سے سیل کر دیا گیا ہے۔ تین میں انٹرنیٹ خدمات (Internet Service) بھی بند کر دی گئی ہے۔

      بدھ کو گنجر والا میں ہونے والے تشدد میں 4 پولیس اہلکار کی موت ہوگئی جبکہ 250 سے زائد زخمی بتائے جارہے ہیں۔ ٹی ایل پی نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے پولیس یا دیگر سکیورٹی فورسز کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کی تو بڑے پیمانے پر تشدد ہو سکتا ہے اور اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

      کیا ہے ٹی ایل پی کا مطالبہ ؟
      ٹی ایل پی کا پہلا مطالبہ بنیاد پرست لیڈر سعد رضوی کی رہائی دینے کو لیکر ہے جو چھ ماہ سے جیل میں ہیں۔ حکومت اس کیلئے مان گئی ہے۔ عمران حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی بھی ختم کی جائے گی اور اس کے لوگوں کو بھی رہا کیا جائے گا تاہم ٹی ایل پی فرانسیسی سفیر کو ہٹانے کے مطالبے پر بضد ہے لیکن حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہے۔

      فرانسیسی سفیر کو لیکر بڑھ گیا تنازعہ
      حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو ملک کو اس کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یورپی ممالک پاکستان کے خلاف ہو جائیں گے۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم ہو جائے گا اور پاکستانیوں کا یورپ جانا مشکل ہو جائے گا۔ دوسری جانب ٹی ایل پی بھی جھکنے کو تیار نہیں۔ ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام کی توہین کے معاملے میں فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالا جائے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: