ہوم » نیوز » عالمی منظر

جج کی گود میں بیٹھ کر 5 سال کے بچے نے سنائی اپنے والد کو سزا، عدالت میں بیٹھے دیکھتے رہ گئے سبھی لوگ: ویڈیو وائرل

امریکہ میں جج نے کورٹ روم میں ملزم والد کے ساتھ آئے پانچ سال کے معصوم بچے سے فیصلہ کرنے کو کہا۔ بچے کے والد پر کار پارک کرنے کو لیکر ٹریفک قوانین (Trafic Rules) کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

  • Share this:
جج کی گود میں بیٹھ کر 5 سال کے بچے نے سنائی اپنے والد کو سزا، عدالت میں بیٹھے دیکھتے رہ گئے سبھی لوگ: ویڈیو وائرل
امریکہ میں جج نے کورٹ روم میں ملزم والد کے ساتھ آئے پانچ سال کے معصوم بچے سے فیصلہ کرنے کو کہا۔ بچے کے والد پر کار پارک کرنے کو لیکر ٹریفک قوانین (Trafic Rules) کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

کسی بچے کیلئے اس کے والد اس کے ہیرو ہوتے ہیں۔ بچے کی نظر میں اس کے والد کبھی غلط نہیں ہو سکتے اور نہ ہی انہیں کبھی سزا (Punishment) ملک سکتی ہے۔ ایسے میں یہ معاملہ کافی حیران کرنے والا ہے۔ امریکہ میں جج نے کورٹ روم میں ملزم والد کے ساتھ آئے پانچ سال کے معصوم بچے سے فیصلہ کرنے کو کہا۔ بچے کے والد پر کار پارک کرنے کو لیکر  ٹریفک قوانین (Trafic Rules) کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔ سزا سنائے جانے کے دن وہ اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ کورٹ پہنچا تھا۔ سماعت پوری ہو چکی تھی کہ اچانک جج کی نظر بچے پر پڑی۔ جج نے ملزم سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو اس نے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔

جج نے کہا کہ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو میں تمہارے بیٹے کو اپنی گود میں بٹھا سکتا ہوں۔ پھر جج نے بچے کو بلایا اور گود میں بیٹھا لیااور  جج نے بچے کو تین آپشن دئے۔ جج نے بچے سو پوچھا میں تمہارے والد پر 90 ڈالر کا جرمانہ لگاؤں یا 30  ڈالر، یا پھر بغیر جرمانہ لگائے جانے دوں۔ تمہارے خیال سے مجھے کیا کرنا چاہئے؟ چھوٹے بچے کے جواب نے پورے کورٹ احطے کو چونکا دیا۔ جیکب نے کہا کہ اس کے والد پر تیس ڈالر کا جرمانہ لگنا چاہئے۔ وہان موجود سبھی لوگ بچے کے جواب پر حیران رہ گئے اور ہنس دئے۔ جج بھی جیکب کا جواب سن کر حیران ہو گئے۔ جج نے بچے کے جواب سے خوش ہوکر کہا تم اچھے جج ہو۔


جج نے کہا دینی ہوگی پارٹی

اسکے بعد جج نے جہا کہ تمہارے پاس کچھ ڈالر ہیں تو اب تمہیں مجھے پارٹی دینی ہوگی۔ اگر تمہیں ڈیل منظور ہو تو۔ اس بچے نے کہا یہ ایک اچھی ڈیل ہے۔ سوشل میڈیا پر(social media)  یہ ویڈیو تابڑتور وائرل ہوگیا ہے۔ اس ویڈیو  (viral video) کو دیکھ کر لوگ کمینٹس کر رہے ہیں۔ اور اپنا رد عمل بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

Published by: sana Naeem
First published: Oct 02, 2020 12:41 PM IST