உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine War:زیلنسکی نے کہا-ڈونیٹسک علاقہ کردیں خالی، کھیرسن میں یوکرین نے کئی روسی فوجیوں کو مار گرانے کا کیا دعویٰ

    یوکرین اور روس کے درمیان ڈونسک اور کھیرسین کے علاقوں میں شدید لڑائی جاری۔  (فائل تصویر)

    یوکرین اور روس کے درمیان ڈونسک اور کھیرسین کے علاقوں میں شدید لڑائی جاری۔ (فائل تصویر)

    یوکرین کے خلاف روسی فوجی جارحیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اولینیوکا میں یوکرائنی قیدیوں کے اجتماعی قتل اور تشدد کی حالیہ ویڈیوز میں یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے ماسکو کی طرف سے اسپانسر دہشت گردی قرار دیا۔

    • Share this:
      Russia Ukraine War :روس اور یوکرین(Russia-Ukraine) کے درمیان جاری جنگ کے چھٹے مہینے میں ڈونیسک(Donsk Region) علاقہ دونوں فریقوں کے لیے عزت کی لڑائی بن گیا ہے۔ یہاں کھیرسن (Kherson) میں شدید لڑائی جاری ہے۔ دوسری جانب مغرب سے ہتھیاروں کی کھیپ (Consignment Of Weapons) کے بعد یوکرین میدان میں اپنی طاقت دکھا رہا ہے۔ یوکرین کی فوج(Ukrainian Army) نے کھیرسن میں کئی روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

      دوسری جانب، روسی فوج نے بھی ڈونسک کے علاقے کے کئی شہروں پر میزائل حملے جاری رکھے ہیں۔ ساتھ ہی یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے لوگوں سے ڈونسک کے سرحدی علاقے خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ فوج کے جوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کی مدد کریں۔

      یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کھیرسن میں کئی مقامات پر کھوئے ہوئے علاقوں کی بازیابی کے لیے لڑائی تیز کر دی ہے۔ اس تنازعے میں ایک بمباری کے دوران اس نے روسی فوج کے کئی فوجیوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ روسی فوج کے گولہ بارود کے دو ڈھیر بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ یہ گولہ بارود کے اڈے جنوب میں کیف کے جوابی حملوں کا مرکز تھے اور ماسکو کی سپلائی لائنوں کا ایک بڑا لنک تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Russia Ukraine War:روس کا دعویٰ-یوکرینی فائرنگ میں مارے گئے53جنگی قیدی، علاقے میں کشیدگی

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War:روس-یوکرین اناج برآمد ڈیل کاہندوستان نے کیاخیرمقدم،ساتھ ہی کیاخبردار

      جو آگ سے کھیلتے ہیں، اکثر جل جاتے ہیں، تائیوان پر جن پنگ نے بائیڈن کو دی دھمکی
      دوسری جانب یوکرین کے خلاف روسی فوجی جارحیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اولینیوکا میں یوکرائنی قیدیوں کے اجتماعی قتل اور تشدد کی حالیہ ویڈیوز میں یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے ماسکو کی طرف سے اسپانسر دہشت گردی قرار دیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: