உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    War in Ukraine: روس اوریوکرین سے ہندوستان نے کیا جنگ سے گریز کا مطالبہ! ’صورتحال بڑے بحران کا پیش خیمہ‘

    Youtube Video

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (United Nations Security Council) میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی نے کہا کہ سلامتی کونسل نے دو دن پہلے میٹنگ کی تھی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ ہم نے کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    • Share this:
      ہندوستان نے روس اور یوکرین کو تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔ جمعرات 24 فروری 2022 کو روس یوکرین کے بحران (Russia-Ukraine crisis) کے دوران ہی روسی صدر ولادیمیر پوٹن (Russian President Vladimir) نے یوکرین پر ’فوجی آپریشن‘ کا اعلان کردیا ہے اور کہا کہ یہ جنگ کے آغاز کا اشارہ ہے۔
      اسی ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (United Nations Security Council) میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی نے خطاب کیا ہے۔

      اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (United Nations Security Council) میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی (TS Tirumurti) کہا کہ سلامتی کونسل نے دو دن پہلے میٹنگ کی تھی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ ہم نے کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور صورتحال سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے پائیدار اور مرکوز سفارت کاری پر زور دیا تھا۔ تاہم ہم افسوس کے ساتھ نوٹ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے حالیہ اقدامات کے لیے وقت دینے کے مطالبات پر توجہ نہیں دی گئی۔ صورت حال ایک بڑے بحران کی طرف بڑھنے کا خطرہ ہے۔


      انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس پیش رفت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جنہیں اگر احتیاط سے نہ سنبھالا گیا تو خطے کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے اور کسی بھی ایسی مزید کارروائی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جو صورتحال کو مزید خراب کرنے میں معاون ثابت ہو۔

      اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی نے کہا کہ ہم تمام فریقوں سے متفرق مفادات کو ختم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ تمام فریقین کے جائز سیکورٹی مفادات کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ترومورتی نے کہا کہ ہندوستان نے اقوام متحدہ میں بین الاقوامی قانون کے مطابق اور متعلقہ فریقوں کے ذریعہ کئے گئے معاہدوں کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت کی مسلسل وکالت کی ہے۔

      ’’میں ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہوں کہ بیس ہزار سے زیادہ ہندوستانی شہری بشمول طلبا یوکرین کے مختلف حصوں اور اس کے سرحدی علاقوں میں مقیم ہیں۔ ہم ضرورت کے مطابق ہندوستانی طلبا سمیت تمام ہندوستانی شہریوں کی واپسی کی سہولت فراہم کررہے ہیں‘‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: