உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Food Crisis: مغربی افریقہ میں خوراک کے شدید ترین بحران کا سامنا، خشک سالی، سیلاب، دیگر مسائل کے باعث نقل مکانی

    West Africa Faces Historic Food Crisis: بین الاقوامی امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ مغربی افریقہ میں تقریباً دو کروڑ سَتر لاکھ افراد خوراک کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہےہیں، جو کہ ایک دہائی میں خطے کا بدترین غذائی بحران ہے۔منگل کو شائع ہونے والے ایک بیان میں، گیارہ بڑی بین الاقوامی تنظیموں بشمول عالمہ،آکسفیم ، اور سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ماہ جون میں یہ تعداد چار کروڑ تک بڑھ سکتی ہے۔

    West Africa Faces Historic Food Crisis: بین الاقوامی امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ مغربی افریقہ میں تقریباً دو کروڑ سَتر لاکھ افراد خوراک کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہےہیں، جو کہ ایک دہائی میں خطے کا بدترین غذائی بحران ہے۔منگل کو شائع ہونے والے ایک بیان میں، گیارہ بڑی بین الاقوامی تنظیموں بشمول عالمہ،آکسفیم ، اور سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ماہ جون میں یہ تعداد چار کروڑ تک بڑھ سکتی ہے۔

    West Africa Faces Historic Food Crisis: بین الاقوامی امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ مغربی افریقہ میں تقریباً دو کروڑ سَتر لاکھ افراد خوراک کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہےہیں، جو کہ ایک دہائی میں خطے کا بدترین غذائی بحران ہے۔منگل کو شائع ہونے والے ایک بیان میں، گیارہ بڑی بین الاقوامی تنظیموں بشمول عالمہ،آکسفیم ، اور سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ماہ جون میں یہ تعداد چار کروڑ تک بڑھ سکتی ہے۔

    • Share this:
      مغربی افریقہ گزشتہ دَس سالوں میں خوراک کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ لندن میں قائم بین الاقوامی انسانی تنظیم آکسفیم کی جانب سے دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ساحل کے کچھ حصوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اناج کی پیداوار میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے اور بنیادی غذائی مواد کا ذخیرہ تقریباً ختم ہو رہا ہے۔آکسفیم نےکہا کہ لاکھوں لوگوں کو خشک سالی، سیلاب، تنازعات اور کوویڈ کی وجہ سے نقل مکانی کرنی پڑی اس بات پر زور دیا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں خوراک کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے، اور روس یوکرین جنگ نے حالات کو مزید ابتر کر دیا ہے۔

      بین الاقوامی امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ مغربی افریقہ میں تقریباً دو کروڑ سَتر لاکھ افراد خوراک کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہےہیں، جو کہ ایک دہائی میں خطے کا بدترین غذائی بحران ہے۔منگل کو شائع ہونے والے ایک بیان میں، گیارہ بڑی بین الاقوامی تنظیموں بشمول عالمہ،آکسفیم ، اور سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ماہ جون میں یہ تعداد چار کروڑ تک بڑھ سکتی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اس ضمن میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ بحران نئی تاریخی سطح پر پہنچ جائےگا ۔دو ہزار پندرہ کے بعد سے برکینا فاسو، نائجر، چاڈ، مالی اور نائجیریا میں ہنگامی خوراک کی امدادکی ضرورت والے افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہواہے۔یعنی ستر لاکھ سے بڑھ کر یہ تعداد دوکروڑ ستر لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔مغربی اور وسطی افریقہ کے لیے آکسفیم کے علاقائی ڈائریکٹر کاکہناہیکہ خشک سالی، سیلاب، تنازعات، اور معیشت پر کووڈ کےبُرے اثرات کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

      ان حالات نےلاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے اور انہیں تباہی کےدہانے پر دھکیل دیاہے۔آکسفیم کاکہناہیکہ ان علاقوں میں کافی خوراک نہیں ہے۔ بچوں کے لیے غذائیت سے بھرپور کھانوں کی کمی ہے۔ تنظیم کاکہناہیکہ دنیاکوفوری طور پران کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ ان کی صحت، ان کا مستقبل اور یہاں تک کہ ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں سال چھے سے انسٹھ ماہ کی عمر کے چھے اعشاریہ تین ملین بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے، جو کہ دو ہزار اکیس سے تقریباً تیس فیصد زیادہ ہے۔خوراک کی کمی کے ساتھ، خاندانوں کے کھانے کے ذرائع، خاص طور پر افریقہ کےوسطی۔ ساحل ۔میں درجنوں خاندان تیزی سے اپنے اثاثے بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے ان کے بچوں کا مستقبل مزید خطرے میں پڑ رہا ہے۔ لڑکیاں اسکول چھوڑرہی ہیں یا کم عمری میں شادی کے لیے مجبورہیں۔

      بارش میں کمی کے سبب اشیاء کی پیداروا متاثرہوئی ہے۔ چاروں کی کمی کی وجہ سے مویشی کمزرہورہے ہیں ۔لوگ انہیں کم قیمت ہر فروخت کرنے مجبور ہیں۔ پہلے سے سنگین اس صورتحال کے درمیان، ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے سے دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں بیس فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے،جوپہلےسے کمزور آبادی کے لیے ناقابل برداشت اضافہ ثابت ہوگا۔ اس جنگ کی وجہ سے چھ مغربی افریقی ممالک میں گندم کی دستیابی میں نمایاں طور پر کمی آئےگی۔ گذشتہ ایک دہائی سے جاری ا س بحران کےختم ہونے کےآچار نظرنہیں آرہے ہیں۔ دوسری طرف بین الاقوامی عطیات میں زبردست کمی آ رہی ہے۔ گذشتہ سال، مغربی افریقہ کے لیے انسانی ہمدردی کا ردعمل کا منصوبہ اپنے دائرہ کار کے نصف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ڈنمارک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال برکینا فاسو اور مالی کے لیے اپنی دو طرفہ ترقیاتی امداد کا تقریباً نصف فنڈ کم کردےگا، ، تاکہ یوکرین سے بے گھر ہونے والے لوگوں کے استقبال کے لیے فنڈز فراہم کیے جا سکیں۔

      یہ بھی پڑھیں: حجاب کے بہانے القاعدہ سرغنہ ایمن الظواہری نے اگلا زہر، 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگانے والی مسکان خان کو بتایا بہن، ویڈیو جاری کرکے پڑھی کویتا

       وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود، جو نہیں چاہتے کشمیری پنڈتوں کی واپسی، Kashmiri Migrants ایسے حملوں نہیں ڈرنے والے


      Published by:Sana Naeem
      First published: