உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چین میں ایغور مسلمانوں پر کیسے ہوتا ہے ظلم و تشدد، سابق پولیس اہلکار نے کیا بھیانک انکشاف، پرائیویٹ پارٹ کو لگایا جاتا ہے کرنٹ

    ۔ خواتین پر تشدد کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر کیا جاتا ہے بھیانک کام

    ۔ خواتین پر تشدد کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر کیا جاتا ہے بھیانک کام

    ں مار پیٹ سے شروع کرکے پولیس کے جوان انہیں لات و گھونسوں سے پیٹ کر بری طرح تڑپاتے ہیں اور ان کی برہنہ پیٹھ پر کوڑے برسا کر ظلم کی ہر انتہا پار کر ڈالتے ہیں۔ ۔ زیادہ تر ایسے بے رحم ظلم سے لوگ اپنی جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    • Share this:
      بیجنگ۔ چین ایغور مسلمانوں (Uyghur Muslims in China) پر طالبان (Taliban) کی طرح بے رحمانہ مظالم ڈھاتا ہے۔ چینی کمیونسٹ حکومت (Chinese Communist Government) کی بات نہ ماننے کی وجہ سے صوبہ شن‍‌ژیانگ xinjiang صوبے کے حراستی مراکز (detention centers) میں ایغوروں کو طرح طرح کے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چینی حکمران کی ان زیادتیوں سے بھاگ کر بچ نکلے بہت سے متاثرین پہلے ہی اپنے اور ساتھی ایغور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی تفصیلات پیش کر چکے ہیں۔ پہلی بار ایک چینی پولیس اہلکار نے خود ایغوروں پر ہونے والے خوفناک ظلم کا انکشاف کیا ہے۔

      کرسی سے باندھ کر شروع ہوتا ہے ٹارچر
      'دی میل' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک چینی پولیس اہلکار نے بتایا کہ شن‍‌ژیانگ xinjiang میں بند رکھے گئے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پکڑ کر لائے جانے والے جن بھی ایغور مسلمانوں کو تشدد (Torture) کے لیے لائے جاتے ہیں انہیں کرسی سے باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ انہیں مار پیٹ سے شروع کرکے پولیس کے جوان انہیں لات و گھونسوں سے پیٹ کر بری طرح تڑپاتے ہیں اور ان کی برہنہ پیٹھ پر کوڑے برسا کر ظلم کی ہر انتہا پار کر ڈالتے ہیں۔ ۔ زیادہ تر ایسے بے رحم ظلم سے لوگ اپنی جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

      جھپکی لینے پر بے رحمی سے پیٹا
      انٹرویو لینے والے رپورٹر کے مطابق اس سابق چینی پولیس اہلکار نے اسے اس ظلم و مظالم کے طریقے کا مظاہرہ کرکے بھی دکھایا۔ اس نے بتایا کہ زیادہ تر معاملات میں لوگوں کی پیٹائی سے بینائی تک چلی جاتی ہے۔ ظلم کا اگلا مرحلہ متاثرین کو سونے نہ دینا ہے۔ وہ ایک ہلکی سی بھی جھپکی اگر لیتے ہیں تو انہیں اس حد تک مارا پیٹا جاتا ہے کہ وہ بیہوش ہو جاتے ہیں بس اتنا ہی نہیں پھر ہوش میں لاکر انہیں دوبارہ پیٹا جاتا ہے۔ بہت سے پولیس والے ہتھوڑا لیکر متاثر کی ٹانگ تک توڑ دیتے ہیں جس سے وہ عارضی طور پر دوسروں پر انحصار رہے ۔ یہی نہیں ایغوروں کو بھاگنے کے خوف سے بیت الخلا جانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

      پرائیویٹ پارٹ پر لگایا جاتا ہے کرنٹ
      جیانگ نے بتایا کہ تیسرے مرغلے میں ایغوروں کے پرائیویٹ پارٹ کو کرنٹ لگا دیا جاتا ہے۔ خواتین پر تشدد کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی جاتی ہیں اور پھر بار بار ان کے ہاتھو کو میز پر زور سے پٹکا جاتا ہے۔ چند منٹ بعد ان کے ہاتھ خون سے لہولہان ہو جاتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس نے 14 سال کے بہت سے بچوں کو بھی ان ظلم و تشدد کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ خاص طور پر ایغور بچوں کو صرف اس لیے سزا دی جاتی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔

      غربت ظاہر کرنے پر گرفتاری
      جیانگ نے بتایا کہ اگر کوئی ایغور اپنی غربت یا شن‍‌ژیانگ xinjiang سے باہر جانے کی اپیل بھی کرتا ہے تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ایغور مسلمانوں کو روکنے کے لیے شہر میں ہر 300 سے 500 قدم پر ایک پولیس چوکی قائم کی گئی ہے۔ اس پر انہیں مسلسل پیغامات دیے جاتے ہیں کہ وہ قواعد و ضوابط پر عمل کریں اور قوم کا اتحاد برقرار رکھیں۔ اگر تین ایغور ایک ساتھ گھومتے ہوئے دیکھے جائیں تو پولیس ان سے علیحدہ علیحدہ جانے کو کہتی ہے اور جس کی بھی بڑھی ہوئی داڑھی نظر آتی ہے اسے مجرمانہ تحقیقات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اسلامی ویڈیوز بھیجنے پر بھی نوجوانوں کو 10-10 سال تک جیل میں رکھا جاتا ہے۔

      اسلام کو ختم کرنا چاہتا ہے چین
      اس پولیس اہلکار نے بتایا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی اسلام کے خلاف مہم اتنی وسیع ہے کہ حکومت اس سے لوگوں کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ اسلام کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت ان کی روایات اور عقائد کو مٹانا چاہتی ہے اور ایغوروں کی شناخت کو بھی تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: